آواز سن کر اے آئی اب کینسر کی نشاندہی کر سکتا ہے

دنیا بھر میں سنگین طبی مسئلہ ہے۔ اکثر مریض تشخیص میں تاخیر کی وجہ سے پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتے ہیں

               
April 6, 2026 · چشم حیرت

 لاہور: نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) انسانی آواز میں پوشیدہ باریک اشاروں کو شناخت کر کے مختلف بیماریوں، خصوصاً گلے کے کینسر کی ابتدائی علامات معلوم کر سکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق گلے کا کینسر، جسے وائس باکس کینسر بھی کہا جاتا ہے، دنیا بھر میں سنگین طبی مسئلہ ہے۔ اکثر مریض تشخیص میں تاخیر کی وجہ سے پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتے ہیں، کیونکہ موجودہ طریقہ کار جیسے اینڈوسکوپی اور ٹشو بایوپسی نہ صرف تکلیف دہ ہیں بلکہ ہر جگہ فوری دستیاب بھی نہیں۔

امریکی ماہرین کی ٹیم نے ‘بریج ٹو اے آئی وائس’ منصوبے کے تحت ہزاروں آوازوں کی ریکارڈنگز کا تجزیہ کیا۔ اس تحقیق میں آواز کے مختلف پہلو جیسے پچ، شدت میں معمولی تبدیلیاں اور شور کے تناسب کا جائزہ لیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ مردوں میں مخصوص آواز کے پیٹرنز، خصوصاً ہارمونک ٹو نوائس ریشو اور پچ میں تبدیلیاں، گلے کے کینسر یا ابتدائی رسولیوں کی نشاندہی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، تاہم خواتین میں واضح نتائج ابھی سامنے نہیں آئے اور مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں ایسے نظام کی بنیاد بن سکتی ہے جو صرف آواز سن کر بیماری کی ابتدائی شناخت کرے۔ بڑے ڈیٹا سیٹس اور کلینیکل ٹیسٹنگ کے بعد چند برسوں میں اس کا ابتدائی طبی استعمال ممکن ہو سکتا ہے۔

یہ پیش رفت صحت کے شعبے میں تشخیص کے طریقوں کو تیز، آسان اور مؤثر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے بروقت علاج اور بہتر نتائج حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔