ایرانی ایٹمی اور میزائل پروگرام کی بنیاد خود امریکہ اور اسرائیل نے رکھی تھی
1953میں امریکی صدر آئزن ہاورنے ایٹمزفارپیس پروگرام متعارف کرایا
تصویر: یونائیٹڈ سٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس
ایران کا ایٹمی اور میزائل پروگرام آج عالمی سیاست میں ایک اہم اور متنازع موضوع ہے، لیکن اس کی تاریخی بنیادیں سرد جنگ کے دور میں واشنگٹن اور تل ابیب تک جاتی ہیں۔
1953 میں Operation Ajax کے تحت امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے ایران میں ایک آپریشن کیا، جس کے نتیجے میں منتخب وزیر اعظم محمد مصدق کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور محمدرضاپہلوی کواقتدار میں لایا گیا۔ اس واقعے کے بعد ایران امریکہ کا قریبی اتحادی بن گیا، اور دفاعی وسائنسی تعاون کا آغاز ہوا۔
اسی تناظر میں 1953 میں امریکی صدر آئزن ہاورنے Atoms for Peace program متعارف کرایا، جس کا مقصد جوہری ٹیکنالوجی کو پرامن مقاصد کے لیے فروغ دینا تھا۔ ایران نے 1957 میں اس پروگرام کے تحت امریکہ کے ساتھ سویلین جوہری تعاون کا معاہدہ کیا۔ اس کے نتیجے میں امریکہ نے ایران کو جوہری تحقیق کے لیے ٹیکنالوجی، تربیت اور مواد فراہم کیا۔
1959 میں تہران نیوکلیئر ریسرچ سینٹر قائم کیا گیا، 1967 میں امریکہ نے ایران کو Tehran Research Reactor فراہم کیا، جو 5 میگاواٹ کا تحقیقاتی ری ایکٹر تھا۔ اس کے ساتھ اعلیٰ افزودہ یورینیم (HEU) بھی فراہم کیا گیا۔ ایرانی سائنسدانوں کو امریکہ کے ایم آئی ٹی جیسے اداروںمیں تربیت دی گئی۔ ان اقدامات نے ایران کے جوہری پروگرام کی بنیادی ڈھانچہ سازی میں اہم کردار ادا کیا۔
سی آئی اے کی ایک رپورٹ کے مطابق ،میزائل پروگرام کے حوالے سے، 1970 کی دہائی میں ایران اور اسرائیل کے درمیان خفیہ فوجی تعاون کے شواہد سامنے آتے ہیں۔ Project Flower ایک ایسا منصوبہ تھا جس کے تحت دونوں ممالک نے میزائل ٹیکنالوجی کی مشترکہ ترقی پر کام کیا۔ اس میں تیل کے بدلے اسلحہ کے معاہدے شامل تھے اور جدید میزائل سسٹمز کی تیاری پر توجہ دی گئی تھی۔ یہ منصوبہ 1979 کے انقلاب کے بعد ختم ہو گیا۔
یہ انکشاف ان دستاویزات سے ہوا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسرائیلی سفارت کار انہیں تہران میں چھوڑ گئے تھے۔انگریزی زبان میں موجود یہ اسرائیلی کاغذات ان ایرانیوں نے پیپر بیک کتابوں کی صورت میں شائع کیے ہیں جنہوں نے نومبر 1979 میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کیا تھا اور اب تک وہاں سے ملنے والی خفیہ دستاویزات کی 50 سے زائد جلدیں شائع کر چکے ہیں۔
اسرائیل اور ایران کے اس مشترکہ منصوبے کا خفیہ کوڈ نام “فلاور” (Flower) تھا۔ یہ ان چھ تیل کے بدلے اسلحہ کے معاہدوں میں سے ایک تھا جن پر اپریل 1977 میں تہران میں شاہ محمد رضا پہلوی اور اس وقت کے اسرائیلی وزیرِ دفاع شمعون پیریز نے دستخط کیے تھے۔
زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کا حصول شاہ کے اس منصوبے کا حصہ تھا جس کے تحت وہ ایران کو مشرقِ وسطیٰ کی سب سے طاقتور فوجی قوت بنانا چاہتے تھے۔
۔
انہی دستاویزات کے مطابق، ایک ایرانی جنرل کی موجودگی میں اسرائیل میں میزائل کا کامیاب تجربہ بھی کیا گیا تھا۔
اس منصوبے کا مقصدایک اسرائیلی میزائل کی رینج کو بڑھانا اور اس میں امریکی پرزوں کی جگہ اسرائیلی پرزے لگانا تھا تاکہ اسرائیل اسے امریکی منظوری کے بغیر قانونی طور پر برآمد کر سکے۔
دستاویزات کے مطابق، ایک ایرانی جنرل کی موجودگی میں اسرائیل میں میزائل کا کامیاب تجربہ کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کا مقصد 1970 کی دہائی کے اوائل میں تیار کردہ ایک اسرائیلی میزائل کی رینج (حد) کو بڑھانا اور اس میں امریکی پرزوں کی جگہ اسرائیلی پرزے لگانا تھا تاکہ اسرائیل اسے امریکی منظوری کے بغیر قانونی طور پر برآمد کر سکے۔
اسرائیل ابھی اس میزائل کو مکمل کر ہی رہا تھا کہ فروری 1979 میںخمینی برسرِ اقتدار آگئے اور اسرائیل کے ساتھ تعاون ختم کر دیاگیا۔ اس منصوبے میں شامل دو سابق ایرانی حکام، جنرل حسن طوفانیان اور ایڈمرل کمال حبیب اللہی نے انٹرویوز میں تصدیق کی کہ دستاویزات میں درج گفتگو بالکل درست ہے۔ یہ دونوں اب امریکہ میں مقیم ہیں۔
انقلاب کے بعد ایران نے دفاعی خودمختاری کی پالیسی اپنائی اور اپنے ایٹمی و میزائل پروگرام کو اندرونی وسائل اور متبادل شراکت داروں کی مدد سے آگے بڑھایا۔ وقت کے ساتھ یہ پروگرام ایران کی اسٹریٹیجک پالیسی کا مرکزی حصہ بن گیا۔