کن شہریوں کو ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے سستا پیٹرول ملے گا؟
وفاقی حکومت نے عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیر سے شروع ہونے والے ریلیف پیکیج کا آغاز وقت سے پہلے کردیا ہے۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے واضح کیا ہے کہ پیٹرول پر سبسڈی صرف ان گاڑیوں کے مالکان کو دی جائے گی جو ایکسائز ڈیپارٹمنٹ میں رجسٹرڈ ہیں۔
غیر رجسٹرڈ یا نامکمل کاغذات والی گاڑیاں اس پروگرام سے خارج کر دی گئی ہیں تاکہ ریلیف حقیقی حقداروں تک پہنچ سکے۔
وفاقی حکومت نے عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیر سے شروع ہونے والے ریلیف پیکیج کا آغاز وقت سے پہلے کردیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے سبسڈی کی منتقلی کا عمل گزشتہ شب سے باقاعدہ شروع ہو گیا ہے۔
شزا فاطمہ خواجہ اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے پریس کانفرنس میں عوام کے لیے بڑے ریلیف اقدامات کا اعلان کیا۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ تمام صوبائی حکومتوں نے اپنی رجسٹرڈ گاڑیوں کا ڈیٹا وفاقی حکومت کو فراہم کر دیا ہے تاکہ ادائیگی کا عمل شفاف ہو اور اس پورے نظام کی نگرانی خود وزیراعظم کر رہے ہیں۔
وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ موٹر سائیکل مالکان کے لیے فی لیٹر 100 روپے کی سبسڈی متعارف کرائی گئی ہے،
اور گزشتہ تین ہفتوں میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ روکنے کے لیے حکومت نے 129 ارب روپے خرچ کیے تاکہ عوام کو اضافی بوجھ سے بچایا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ پبلک ٹرانسپورٹ اور گڈز ٹرانسپورٹ آپریٹرز کے لیے بھی خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے۔
یہ اقدامات عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے اور سبسڈی کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے کیے گئے ہیں، جس سے حقیقی حقدار براہِ راست فائدہ اٹھا سکیں گے۔