جب ایران ایٹم بم کے لیے درکار یورینیم افزودگی سے بہت قریب تھا لیکن پھر کیا ہوا؟
2000 کی دہائی کے اوائل میں جوہری ہتھیارکے مقامی ڈیزائن پر نمایاں پیش رفت ہوئی تھی
تصویر: الاستقلال ڈاٹ نیٹ
جوہری ہتھیاروں کو عموماً ایک ڈیٹیرنس کے طور پر دیکھا جاتا ہے، یعنی ان کی موجودگی دشمن کو حملے سے باز رکھتی ہے۔ ماہرین اس ضمن میں شمالی کوریا کی مثال دیتے ہیں، جس نے جوہری ہتھیار تیار کر کے خود کو ایک حد تک اس قابل بنا لیا ہے کہ اس پر کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا۔اس کے برعکس یوکرین کی مثال ہے، جس نے 1994ء میں اپنے جوہری ہتھیار ترک کر دیے تھے۔ اب یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اگر یوکرین کے پاس وہ نیوکلیئر ہتھیار موجود ہوتے، تو شاید روس اس پر حملہ نہ کرتا۔
جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق،ایران کو اب تک ایک ایسی حالت میں سمجھا جاتا تھا، جسےجوہری تاخیر‘‘ یا nuclear latency کہا جاتا ہے، یعنی اس نے تمام وسائل رکھنے کے باجود جوہری ہتھیار نہیں بنائے۔
امریکی ماہر روپل مہتا کا کہنا ہے، ایران نے برسوں تک اسٹریٹیجک ابہام برقرار رکھا اور خود کو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے مطلوبہ وسائل کی حد سے نیچے رکھا تاکہ حملوں سے بچ سکے۔ لیکن اب نئی قیادت کے سامنے ایک کٹھن سوال ہے اور وہ یہ کہ ادھورا جوہری پروگرام شاید سب سے بڑی غلطی تھا۔
امریکی تحقیقی ادارے یونائٹیڈ اسٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس نے انکشاف کیا ہے کہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں، ایرانی ماہرینِ طبیعیات اور انجینئرز نے بم کے مقامی ڈیزائن پر نمایاں پیش رفت کی تھی۔ 2006 میں جب ایران نے پہلی بار یورینیم افزودہ کیا، تو اس وقت کے صدر محمود احمدی نژاد نے اعلان کیاتھاکہ عظیم ایران ایٹمی ممالک کے کلب میں شامل ہو گیا ہے۔
سپریم لیڈر خامنائی نے 17 فروری 2022 کو انہوں نے کہاتھاکہ ہمیں بھی جلد یا بدیر پرامن ایٹمی توانائی کی ضرورت پڑے گی۔ آج اگر ہم اس بارے میں نہیں سوچیں گے، اگر ہم اس معاملے کی پیروی نہیں کریں گے، تو کل بہت دیر ہو جائے گی اور ہمارے ہاتھ خالی ہوں گے۔
ایک بم بنانے کے لیے ایران کو 25 کلوگرام یورینیم چاہیے جو 90 فیصد یا اس سے زیادہ افزودہ ہو۔ 2015 میں اس کا بریک آؤٹ ٹائم (ایک بم کے لیے کافی یورینیم افزودہ کرنے کا وقت) 12 ماہ تھا۔ مارچ 2022 تک، یہ کم ہو کر صرف دو سے تین ہفتے رہ گیا تھا۔
اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس کے اس وقت کے سربراہ میجر جنرل تمیر ہیمن نے ایک انٹرویو میں کہاتھاکہ آپ کے پاس کافی افزودہ یورینیم (breakout) ہو، تب بھی بم بنانے تک ایک طویل سفر باقی ہوتا ہے ،مارچ 2022 میں ہی اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس کے مطابق، اگر ایران ایٹم بم بنانے کا فیصلہ کرتا ہے، تو اسے ایک بم تیار کرنے میں کم از کم دو سال لگیں گے۔لیکن پھر اس پربوجوہ کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔