خیبرپختونخوا میں 6 سے 9 اپریل تک بارشوں کی پیشگوئی،سیلاب کا خدشہ ، الرٹ جاری

کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے عملہ اور بھاری مشینری چوبیس گھنٹے تیار رکھی جائے ، پی ڈی ایم اے

               
April 6, 2026 · اہم خبریں, قومی
فوٹو سوشل میڈیا

فوٹو سوشل میڈیا

پشاور: خیبرپختونخوا میں مون سون سے قبل بارشوں کے نئے سلسلے کے پیشِ نظر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے سیلابی صورتحال کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ الرٹ کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں 6 اپریل سے 9 اپریل تک وقفے وقفے سے بارشوں اور ژالہ باری کا امکان ہے جس سے ندی نالوں میں طغیانی آ سکتی ہے۔

پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ مراسلے میں ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور دیگر تمام متعلقہ ضلعی اداروں کو مکمل الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حکام نے ہدایت کی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے عملہ اور بھاری مشینری چوبیس گھنٹے تیار رکھی جائے تاکہ بروقت امدادی کارروائیاں شروع کی جا سکیں۔

محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے نے بالخصوص درج ذیل مقامات پر طغیانی اور فلیش فلڈنگ (اچانک سیلاب) کا انتباہ جاری کیا ہے،کوہاٹ توئی،دریائے کرم، دریائے گومل میں فلیش فلڈنگ کا خطرہ ہے۔

پی ڈی ایم اے نے صوبے کے کئی اہم اضلاع بشمول پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، مہمند، بنوں، کوہاٹ، کرم اور ڈی آئی خان کے ڈپٹی کمشنرز کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے خصوصی ہدایات دی ہیں۔

انتظامیہ کو پابند کیا گیا ہے کہ نشیبی علاقوں اور سیلاب کے لحاظ سے حساس مقامات کی فوری نشاندہی کی جائے۔کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رکھا جائے۔شہریوں کو ممکنہ خطرات سے آگاہ رکھنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جائیں۔

اتھارٹی نے دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب آباد آبادی کو انتہائی محتاط رہنے کی تاکید کی ہے۔ممکنہ سیلابی خطرے کے پیشِ نظر نشیبی علاقوں میں مقیم افراد کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مویشی پال حضرات کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے جانوروں کو ندی نالوں کے قریب باندھنے کے بجائے محفوظ اور بلند مقامات پر منتقل کر دیں۔بارشوں کے دوران پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے، لہٰذا غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے۔

پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا کا کنٹرول روم فعال کر دیا گیا ہے اور شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام یا ہیلپ لائن پر دیں۔