سولر سسٹم پاکستانی زرعی پیداوار کو کیسے جنگ کے بدترین اثرات سے بچارہاہے؟
بلوچستان اور پنجاب کے کئی کسان شمسی توانائی پر چلنے والے ٹیوب ویلز سے آبپاشی کرتے ہیں
سولرپینلز۔فائل فوٹو
سولر سسٹم پاکستان میں زرعی پیداوار کو ایران جنگ اور آبنائے ہرمزکی بندش کے بدترین اثرات سے قابل ذکرطورپر بچارہاہے۔عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں بلندہورہی ہیں لیکن پاکستانی کسان فکرمندنہیں۔ بلوچستان کے دشت جیسے علاقے میں بھی پانی کے پمپ بغیر ڈیزل چل رہے ہیں،اور فصلوں کو پانی مل رہا ہے۔
کاشت کاروں کا کہناہے کہ انہیں ڈیزل کی قیمت بڑھنے کی پروا نہیں،جب تک یہ سورج ہے ،ہم اپنی پیداوار اگاسکتے ہیں۔
بلوچستان اور پنجاب کے کئی کسان جو سولرپر چلنے والے ٹیوب ویلز سے آبپاشی کرتے ہیں، انہیں پانی کی قابل اعتماد سپلائی مل رہی ہے اور ڈیزل کی اتار چڑھاؤ والی قیمتوں سے بچ رہے ہیں۔ دیہی علاقوں میں جہاں بجلی کی سپلائی غیر یقینی ہوتی ہے، سولر پاور ایک ضرورت بن چکی ہے نہ کہ عیاشی۔
کونسل آن فارن ریلیشنز کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز اگلے چند مہینوں تک بند رہی تو پاکستان کو شدید توانائی کا بحران لاحق ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے پاس ذخیرہ کرنے کی گنجائش محدود ہے۔ بجلی گھروں اور توانائی کے زیادہ استعمال والے کاروباروں کو گیس کی کمی فوری طور پر بجلی کے بڑے بڑے لوڈ شیڈنگ، فیکٹریوں کی بندش اور عوامی خدمات، ٹرانسپورٹ اور گھروں پر اثرات میں تبدیل ہو سکتی ہے۔لیکن پچھلے چند سال میں پاکستان کی چھتوں اور کھیتوں پر جو خاموش تبدیلی آئی ہے، وہ ملک کو اس بحران سے جزوی طور پر بچانے کا ذریعہ ہے جس کی دنیا تیاری کر رہی ہے۔
EMBER تھنک ٹینک کے مطابق ملک کے توانائی کے مجموعے میں سولر کا حصہ 2020 میں2اعشاریہ 9 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں زبردست32اعشاریہ 3 فیصد ہو گیا ۔ اس نے تیل کی درآمدات کم کرنے میں مدد کی ۔رینوی ایبلز فرسٹ میں انرجی ڈیٹا مینیجررابعہ بابر کے مطابق ،پاکستان کاسولر انقلاب اسلام آباد میں پلان نہیں کیا گیا تھا یہ چھتوں پر بنا ہے۔جب آبنائے ہرمز کے گرد تناؤ زیادہ ہے تو یہ پینلز ملک کی سب سے موثر توانائی سیکیورٹی حکمت عملیوں میں سے ایک ثابت ہو رہے ہیں۔گیلپ پاکستان سروے 2023 کے مطابق تقریباً 15 فیصدیعنی تقریباً 40 لاکھ پاکستانی گھرانوں نے کسی نہ کسی شکل میں سولر پینلز استعمال کیے تھے۔2025 تک یہ تعداد مزید بڑھ گئی۔پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے گھریلو سروے کے مطابق اب 25 فیصد گھرانے کسی نہ کسی شکل میں سولر پاور استعمال کر رہے ہیں۔
پاکستان کے زیادہ تر سولر پینلز چین سے درآمد کیے جاتے ہیں، جو عالمی سولر سپلائی چین کا 80 فیصد کنٹرول کرتا ہے اور دنیا بھر میں استعمال ہونے والے بہت سے سولر ویفرز، سیلز اور پینلز بناتا ہے۔چینی لیتھیم آئن بیٹریاں بھی پاکستان کی مارکیٹ میں داخل ہو رہی ہیں۔ یہ بیٹریاں دن میں بجلی ذخیرہ کرتی ہیں جو رات کو استعمال ہوتی ہے۔ چینی لیتھیم آئن بیٹریوں کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ زیادہ لوگ سولر پینلز کے ساتھ بیٹریاں بھی لگا رہے ہیں، جس سے قومی گرڈ پر انحصار مزید کم ہو رہا ہے۔
پاکستان میں یہ انحصار واضح طور پر نظر آتا ہے۔ 2018 میں چین سے سولر کی درآمدات مل کر 1 گیگا واٹ سے بھی کم تھیں۔ 2026 کے ابتدائی مہینوں میں یہ حیران کن طور پر 51 گیگا واٹ تک پہنچ گئی، جس سے پاکستان دنیا کے سب سے تیزی سے بڑھتے سولر مارکیٹوں میں سے ایک بن گیا۔
پچھلے ایک دہائی میں چینی سولر پینلز کی قیمتیں بہت کم ہوئی ہیں، بڑی پیداوار اور عالمی مقابلے کی وجہ سے۔ یہ اوور سپلائی خاص طور پر 2018 کے بعد قیمتوں کو نیچے لے آئی۔
2010 کے ابتدائی برسوں میں سولر پینل کی قیمت فی واٹ 100 روپے سے 120 روپےتک تھی۔ اب یہ تقریباً 30 روپےفی واٹ رہ گئی ہے۔ گھریلو 3 کلو واٹ سولر سسٹم کی قیمت عام طور پر تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار روپےہے، بڑے کمرشل سسٹم 22 لاکھ روپےتک جا سکتے ہیں۔
پاکستان میں سولر ماڈیولز کی یہ کم قیمت بجلی کی کمی، بڑھتی ٹیرف اور 2022 میں روس،یوکرین جنگ کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ آئی۔ اس نے ان گھرانوں، کاروباروں اور کسانوں کے لیے سولر توانائی کو ایک قابل عمل متبادل بنا دیا جو ایک بار سرمایہ لگا سکتے تھے۔
لیتھیم آئن بیٹریوں کی قیمت، خاص طور پر چین سے، بھی گری ہے، جس سے گھرانے رات کے استعمال کے لیے بجلی ذخیرہ کر سکتے ہیں اور گرڈ بجلی پر انحصار کم کر سکتے ہیں۔ 2024 میں صرف ایک سال کے دوران قیمتوں میں 20 فیصد کمی آئی تھی۔تاہم تربت یونیورسٹی کے ایک انجینئر نے بتایا کہ پاکستان ایندھن کی درآمدات پر انحصار کم کر رہا ہے تو وہ ایک نئی قسم کی انحصاریت بنا رہا ہے۔ خود سولر پینلز نہ بنانے کی وجہ سے پاکستا ن درآمد شدہ ایندھن کی بجائے درآمد شدہ ٹیکنالوجی پرانحصار میں پھنس رہا ہے ۔
دوسری طرف سولر پاور کے بارے میں حکومتی پالیسیاں بھی بدل رہی ہیں۔اس نے 2015 میں نیٹ میٹرنگ پالیسی متعارف کرائی گئی تاکہ قابل تجدید توانائی کو فروغ دیا جائے اور لوگوں کو گرڈ میں بجلی تقریباً 25 روپےفی یونٹ پر بیچنے کی اجازت دی جائے۔ حکومت نے سولر پینلز کی درآمد پر کچھ ٹیکسز بھی ختم کیے، جس سے سولر سسٹم سستے ہو گئے۔ ان پالیسیوں نے سولر مارکیٹ کو تیزی سے بڑھنے میں مدد دی۔تاہم بعد میں حکومت کو بجلی کے شعبے پر مالی اثرات کی فکر ہوئی جب سولر انسٹالیشنز بڑھ گئیں۔
حال ہی میں حکومت نے نئے نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے بائی بیک ریٹ کم کر کے تقریباً 10 روپےفی یونٹ کر دیا ہے۔لیکن یہ سب کسانوں کے لیے ایک چھوٹی سی قیمت ہے۔ایندھن کی قیمتیں اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں اور ان تربوزوں کی نقل و حمل غیر یقینی ہے۔ لیکن ان کے کام کا ایک حصہ مستحکم ہے اور عالمی واقعات پر منحصر نہیں۔وہ زیادہ سولر پینلز خریدنے، اگلے موسم میں زیاد اجناس اگانے اور انہیں بڑی اور دوردراز منڈیوں میں بھیجنے کا خواب دیکھتے ہیں۔ان کے لیے یہ بات اہم ہے کہ کم از کم پانی ملتا رہتا ہے، چاہے کچھ بھی ہو۔