ہر بچے کا ’’ب فارم‘‘ اب تین مراحل میں بنے گا

بچے کی پیدائش پر پہلا ب فارم تصویر کے بغیر بنایا جائے گا اور یہ تین سال کی عمر تک موثر رہے گا

               
April 7, 2026 · قومی

 اسلام آباد: نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے بچوں کے ب فارم کے لیے نیا طریقہ کار متعارف کروا دیا ہے، جس کے تحت ہر بچے کے تین الگ الگ ب فارم بنائے جائیں گے۔

اس نئے نظام کے مطابق بچے کی پیدائش پر پہلا ب فارم تصویر کے بغیر بنایا جائے گا اور یہ تین سال کی عمر تک موثر رہے گا۔ تین سال کی عمر مکمل ہونے کے بعد دوسرا ب فارم بچے کی تصویر کے ساتھ جاری کیا جائے گا، جو 10 سال کی عمر تک مؤثر ہوگا۔ بچے کی عمر 10 سال سے زیادہ ہونے پر ب فارم تیسری بار بنایا جائے گا، جس میں بچے کی تصویر، آئی رِس اور فنگر پرنٹس شامل ہوں گے اور اس کی میعاد 18 سال کی عمر تک ہوگی۔

نادرا نے والدین کو ہدایت کی ہے کہ وہ بچے کی پیدائش کے ایک ماہ کے اندر یونین کونسل میں اندراج کرائیں اور ب فارم بنوائیں۔ تین سالہ میعاد ختم ہونے پر والدین قریبی نادرا دفتر یا پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے نئے ب فارم کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

یہ نیا طریقہ کار بچوں کی شناخت کو مزید محفوظ اور معتبر بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔