ایران کو ایک ہی رات میں ختم کرنے کا دعویٰ،اہداف کی تعداد اور دستیاب طاقت کاموازنہ
ہے ہر بم اپنے ہدف پر لگ جائے تب بھی کام مکمل نہیں ہو گا۔عسکری تجزیہ کار
عسکری تجزیہ کار نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ پورا ملک ایران ایک ہی رات میں ختم کیا جا سکتا ہے، امریکہ اور اسرائیل کی حقیقی صلاحیتوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔امریکی نشریاتی ادارے کوگریفیتھ ایشیا انسٹی ٹیوٹ کے فیلو اور سابق آسٹریلوی فضائیہ کے افسرپیٹر لیٹن سے پوچھاگیا کہ امریکہ اور اسرائیل ایک رات میں ایران کے سینکڑوں پاور پلانٹس اور ممکنہ طور پر لاکھوں پلوں کو تباہ کرنے کے لیے کتنی طاقت جمع کر سکتے ہیں۔
لیٹن نے ایک فرضی مشن کے لیے کچھ اعدادوشمارپیش کیے۔
ان کا اندازہ ہے کہ چھ B-2 سٹیلتھ بمبارطیاروں کا ایک دستہ ایک مشن میں کل 96 عدد 2 ہزارپاؤنڈ والے JDAM (جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشن) بم لے جا سکتا ہے۔ اگر وہ ایک دن میں دو مشنز مکمل کر لیں تو یہ تعداد 192 بم ہو جائے گی، بشرطیکہ سب کے سب ہدف پر لگیں۔اس کے علاوہ اگر امریکہ اور اسرائیل مل کر 40 F-15لڑاکا طیارے استعمال کریں، جن میں سے ہر ایک 6 عدد2ہزارپاؤنڈ والے JDAM بم لے جا سکتا ہے، تو اس سے مزید 240 بم شامل ہو جائیں گے۔
اس طرح کل 332 بم بنتے ہیں، ہدف کی تعداد اس سے کہیں زیادہ (سینکڑوں گنا) ہے۔
لیٹن کا کہنا ہے کہ چاہے ہر بم اپنے ہدف پر لگ جائے تب بھی کام مکمل نہیں ہو گا۔ یہ ہر ہدف پر صرف کچھ نقصان ضرور پہنچا سکتے ہیں، لیکن درمیانے یا بڑے پلوں کو گرا دینا بہت مشکل ہے ،کیوں کہ یہ بہت سے عوامل پر منحصر ہے۔ پاور پلانٹس عام طور پر بہت بڑے ہدف ہوتے ہیں، اس لیے ایک ہی ضرب سے نمایاں نقصان پہنچانے کے لیے بہت احتیاط سے منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کی ساخت میں بہت سارا مضبوط کنکریٹہوتا ہے، یعنی وہ ہارڈنڈ ہوتے ہیں۔تاہم وہ ممکنہ نقصان سے بھی انکار نہیں کر رہے۔
تجزیہ کار کا بجلی گھروں کے بارے میں کہناہے کہ اگر آپ اندر تک پہنچ جائیں تو جنریٹرز کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے اور پاور پلانٹس میں کبھی اضافی جنریٹرز موجود نہیں ہوتے۔ظاہر ہے، امریکہ اس میںB-1بمبار (ہر ایک 24 JDAM) یا بمبار (تقریباً 20 JDAM فی طیارہ) بھی شامل کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ایران کو ایک ہی رات میں مکمل طور پر ختم کرنے کی امریکہ کی صلاحیت انتہائی مشکوک ہے۔