جنگ سے تیل اور گیس کی بلندہوتی قیمتوں کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ملک

مہنگی پیٹرولیم فوسل فیولز سے جڑی ریاستوں یعنی پیٹرو سٹیٹس کو فائدہ پہنچاتی ہیں

               
April 7, 2026 · امت خاص

 

دنیا کے سب سے طاقتور اور سب سے زیادہ کاربن اخراج کرنے والے کئی ممالک تیل اور گیس کی زیادہ قیمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

 

برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق ،امریکہ کے تیل اور گیس کے شعبے کو جنگ سے 60 ارب ڈالر کا بونس ملنے والا ہے۔ روس کی معیشت یوکرین جنگ کے دباؤ تلے ڈوب رہی تھی، لیکن اب تیل کی بلند قیمتوں اور کچھ پابندیوں کے خاتمے سے اسے سہارا مل گیا ہے۔ سعودی عرب پر ایرانی میزائلوں کے حملوں کے باوجود اس کی قومی تیل کمپنی آرامکوکے شیئرز میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے آسانی سے نکالے جانے والے ذخائر سے بہت زیادہ منافع ہو رہا ہے۔

 

ایران نے اپنے انفراسٹرکچر پر حملوں کے باوجود تیل کی آمدنی میں اضافہ کیا ہے، حالانکہ ان حملوں سے اس کے لوگوں پر زہریلی تیزاب کی بارش ہوئی۔

 

تیل کی زیادہ قیمتیں فوسل فیولز سے جڑی ریاستوں یعنی پیٹرو سٹیٹس کو فائدہ پہنچاتی ہیں اور انہیں مزید تیل و گیس نکالنے کے لیے بڑے پیسے دیتی ہیں۔

 

عالمی رجحانات قابل تجدید توانائی (رینوی ایبلز) کے حق میں تھے۔ گزشتہ سال پہلی بار کم کاربن ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی نے کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کو پیچھے چھوڑ دیا۔ صاف توانائی میں سرمایہ کاری اب فوسل فیولز میں سرمایہ کاری سے دو گنا زیادہ ہو چکی ہے۔ چین اور بھارت میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار 1970 کی دہائی کے بعد پہلی بار گری ہے۔

 

کاربن کے ٹاپ 10 اخراج کنندگان میں امریکہ کے اندر اخراج گزشتہ سال تک کم ہو رہے تھے۔ مارچ 2025 میں پہلی بار کم کاربن ذرائع نے بجلی کی پیداوار کا آدھا حصہ حاصل کر لیا۔ بائیڈن کے انفلیشن ریڈکشن ایکٹ کے بعد گرین اکانومی میں بوم آیا۔لیکن ٹرمپ نے سب کچھ ختم کرنے کی کوشش کی۔ وہ تیل اور گیس کی پیداوار بڑھانا اور مردہ پڑے کوئلے کے بازار کو سہارا دینا چاہتے ہیں۔

 

امریکہ بھر میں کئی ریاستیں، کاروبار اور سرمایہ کار اب بھی صاف ٹیکنالوجی کے مواقع کو تھامے ہوئے ہیں۔ کیلیفورنیا اب اپنی دو تہائی بجلی کم کاربن ذرائع سے پیدا کر رہا ہے۔ ٹیکساس میں پیک ٹائم پر ونڈ اور سولر سے بھی بڑا حصہ آ رہا ہے۔تاہم تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ کافی نہیں ہو گا۔ ٹرمپ امریکہ کو فوسل فیولز کی دلدل میں واپس کھینچ رہے ہیں۔

 

ایران کی جنگ چند دن، ہفتوں یا مہینوں میں ختم ہو سکتی ہے، لیکن اس کے دیرپا اثرات عالمی مستقبل کو تشکیل دیں گے۔ ٹاپ 10 اخراج کنندگان دنیا کے سالانہ کاربن اخراج کا تقریباً دو تہائی حصہ پیدا کرتے ہیں۔ ان میں سے کئی (روس، سعودی عرب، ایران، امریکہ، انڈونیشیا) فوسل فیولز برآمد بھی کرتے ہیں جو عالمی اخراج کو مزید بڑھاتے ہیں۔

 

یہ ممالک دنیا کے مستقبل کو اپنے ہاتھوں میں لیے ہوئے ہیں۔ آیا ہم کم کاربن راستے پر مزید پختہ قدم رکھیں گے یا تیل کی لت میں اور گہرے اتریں گے — یہ بڑی حد تک جنگ کے بعد ان ممالک کے فیصلوں پر منحصر ہے۔

 

جنگ کا نتیجہ کچھ بھی ہو، ایک بات یقینی ہے کہ موجودہ دھچکا صرف ایک عارضی جھٹکا ہے۔ ایک کہیں بڑا بحران آنے والا ہے جو مہنگائی اور معاشی بحران کو بالکل نئی شکل دے گا۔ اگر ہم صنعتی انقلاب سے پہلے کی سطح سے 2 ڈگری سینٹی گریڈ اوپر پہنچ گئےجو موجودہ رفتار سے دو دہائیوں سے بھی کم وقت میں ہو سکتا ہے تو موسمیاتی تباہی کا معاشی اثر ہر سال ایک نئی تیل کی جنگ جتنا ہو گا۔