اسرائیل نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کو سبوتاژ کیا، اسحاق دار

دونوں فریقین میز پر بیٹھنے کے لیے تیار تھے، اسرائیل نے تہران پر حملہ کر کے "خطرناک پیش رفت" کو جنم دیا۔ سینیٹ میں پالیسی بیان

               
April 7, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے تہران پر حملہ کر کے امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے۔

سینیٹ میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کر رہا تھا اور دونوں ممالک مذاکرات کے لیے اسلام آباد آنے پر آمادگی ظاہر کر چکے تھے۔

اسحاق ڈار کے مطابق جس وقت دونوں فریقین میز پر بیٹھنے کے لیے تیار تھے، اسرائیل نے تہران پر حملہ کر کے اس “خطرناک پیش رفت” کو جنم دیا۔ انہوں نے کہا، “ہم پیر کی رات تک مذاکرات کے حوالے سے انتہائی پرامید تھے۔”

 پاکستان نے اس سفارتی عمل کے دوران دونوں ممالک کے مطالبات کا تبادلہ کیا پاکستان نے واشنگٹن کی 15 نکاتی شرائط تہران تک پہنچائیں۔ تہران کی 5 نکاتی شرائط (بعض ذرائع کے مطابق 10 نکاتی فریم ورک) واشنگٹن کے حوالے کی گئیں۔

؎ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی (IRNA) کے مطابق، ایران نے دو ہفتوں کی اعلیٰ سطحی مشاورت کے بعد پاکستان کے ذریعے اپنا جواب امریکہ کو ارسال کر دیا ہے۔ تاہم تہران نے عارضی جنگ بندی کے بجائے “مستقل خاتمہ جنگ” اور سیکیورٹی ضمانتوں پر زور دیا ہے۔