چاند کے سفر میں خلابازوں نے زمین طلوع اورغروب ہونے کے نایاب مناظر دیکھے۔ تصاویرجاری
ارتھ سیٹ تصویر’’اورین‘‘ خلائی جہاز کی کھڑکی سے6 اپریل 2026 کو شام6بج کر 41 منٹ پر کھینچی گئی
تصویر: ناسا
امریکی خلائی ادارے ناسا نے مون مشن’’ آرٹیمس II ‘‘ کے خلابازوں کی طرف سے چاند کے قریب پرواز(فلائی بائی)کے دوران لی گئی تصاویر جاری کی ہیں۔
پہلی تصویرEarthsetدکھاتی ہے، جس میں خلابازوں نے زمین کو چاند کے گڑھوں والے منظر کے پار دیکھا۔دوسری تصویرایک شاندارشمسی گرہن دکھاتی ہے، جب چاند نے سورج کو روک لیا۔
ناسانے یہ نہیں بتایا کہ یہ تصاویر کس خلاباز نے کھینچی ہیں۔خلابازوں نے یہ تصاویر چھ گھنٹے کے فلائی بائی کے دوران کھینچیں، جس میں ایک ایسا عرصہ بھی شامل تھا جب ان کی کیپسول کو چاند کے پیچھے ہونے کی وجہ سے ریڈیو سائلنس (رابطہ منقطع) کا سامنا کرنا پڑا۔
Earthset والی تصویر 1968 میں اپولو 8 میں بل اینڈرز کی طرف سے لی گئی مشہورEarthrise تصویر کی یاد دلاتی ہے، جو1969 میں چاند پر انسان کی پہلی لینڈنگ سے قبل کی تھی۔خلا کی گہرائیوں کے پس منظر میں ایک کمزور نیلے سیارے کا منظر اب بھی ماحولیاتی فوٹوگرافی کی سب سے مشہور اوریادگار تصاویر میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
ناسانے اس بارے میں کہا کہEarthset تصویر’’اورین‘‘ خلائی جہاز کی کھڑکی سے6 اپریل 2026 کو شام6بج کر 41 منٹ پر کھینچی گئی۔اس میںزمین کا اندھیرا حصہ رات سے گذررہا ہے۔ زمین کے دن والے حصے پر آسٹریلیا اور اوشیانیا کے علاقے پر بادل نظر آ رہے ہیں۔
خلابازوں کے لیے، سورج گرہن دیکھنا اس غیر معمولی سفر کا ایک خاص لمحہ تھا۔ سورج کا کرونا (corona) چاند کے کنارے کے گرد نظر آ رہا ہے۔ زمین سے دیکھنے پر سورج گرہن بہت مختصر ہوتے ہیں، لیکن اورین کے چاند سے قریب ہونے کی وجہ سے خلابازوں نے تقریباً 54 منٹ تک مکمل گرہن دیکھا۔فریم کے بائیں طرف روشن نقطہ سیارہ زہرہ ہے۔
ایک اور تصویرEarthrise دکھاتی ہے جب ہمارا سیارہ چاند کے پیچھے سے نکلنے کے بعد خلابازوں کی نظر میں واپس آیا۔
1972 میں آخری انسانی لینڈنگ کے بعد تقریباً پانچ دہائیوں میں چاند کے دور دراز والے حصے کی سیٹلائٹ تصاویر تو لی گئیں، تاہم ناسانے کہا کہ خلابازوں کا اسے اپنی آنکھوں سے دیکھنا انمول تھا۔عملے نے جو کچھ دیکھا اس کی آڈیو تفصیلات ریکارڈ کیں، اور ناسا کے سائنسدان ان نوٹس کا جائزہ لے کر نئی معلومات حاصل کریں گے۔