5سے 15 نکاتی تجاویزتک جنگ بندی منصوبے۔اسلام آبادمیں مجوزہ مذاکرات کا ممکنہ ایجنڈا

امریکی بنیادی طور پر ایران سے بڑےمطالبات کرتا آیاہے۔بدلے میںمحدود مراعات کا وعدہ

               
April 8, 2026 · امت خاص

 

ایران جنگ ختم کرنے کے لیے اسلام آبادمیں مجوزہ مذاکرات کی میزپر موجود ایجنڈا کن کن معاملات سے وابستہ ہوگا ،اس حوالے سے اب تک کی صورت حال کا جائزہ لیناضروری ہے۔

 

مارچ 2026 میں امریکہ نے جنگ ختم کرنے کے لیے ایک 15 نکاتی منصوبہ تیار کیا اور اسے پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچایا۔ یہ منصوبہ خفیہ ڈپلومیٹک تجویز تھا، جس کی مکمل دستاویز عوامی طور پر شائع نہیں ہوئی، لیکن میڈیا رپورٹس نے اس کی اہم تفصیلات شیئر کیں۔ ایران نے اسے غیر حقیقی اور زیادہ مطالباتی قرار دے کر مسترد کر دیا اور پہلے 5 نکاتی جواب دیا، پھر اپریل 2026 میں 10 نکاتی جامع منصوبہ پیش کیا۔ پاکستان نے ان مذاکرات میں مرکزی ثالث کا کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں اب تک دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی ہو چکی ہے اور 10 اپریل کو اسلام آباد میں باقاعدہ بات چیت شروع ہونے والی ہے۔

امریکہ کا 15 نکاتی منصوبہ (مارچ 2026)
امریکی منصوبہ بنیادی طور پر ایران سے بڑی مراعات کا مطالبہ کرتا ہے، اس کی طرف سے محدود مراعات (جیسے کچھ پابندیوں میں نرمی اور معاشی فوائد) کا وعدہ بھی ہوا۔ برطانوی اور امریکی میڈیا کے مطابق اس کے اہم نکات یہ تھے:
30 روزہ جنگ بندی، جس کے دوران مزید بات چیت ہو۔
ایران کے جوہری مراکز (نطنز، اصفہان اور فردو) کا مکمل خاتمہ یا محدود کرنا۔
ایران کی جانب سے ہمیشہ کے لیے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت۔
اعلیٰ افزودہ یورینیم کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے حوالے کرنا۔
ایران کی سرزمین پر یورینیم افزودگی کا مکمل خاتمہ۔
ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر سخت پابندیاں اور اسے محدود کرنا۔
ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا اور پراکسی گروپس (جیسے حزب اللہ) کو فنڈنگ، ہتھیار اور حمایت کا مکمل خاتمہ۔
تیل کی تنصیبات پر حملے بند کرنا۔
آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور اس پر آزادانہ بحری نقل و حرکت کی ضمانت (ایران کی مکمل خودمختاری کو تسلیم نہ کرنا)۔
اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنا۔
اس کے بدلے امریکہ نے پابندیوں میں جزوی ریلیف، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی کا میکانزم، اور ممکنہ طور پر سول جوہری تعاون(جیسے بوشہر پاور پلانٹ) کا وعدہ کیا۔ یہ منصوبہ ایران کے جوہری اور علاقائی کردار کو سختی سے محدود کرنے پر مبنی تھا۔

ایران کا 5 نکاتی جواب
ایران نے امریکی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے پریس ٹی وی اور سرکاری عہدیداروں کے ذریعے اپنے 5 نکات پیش کیے تھے۔ اس کا موقف تھا کہ جنگ کا خاتمہ صرف اس کی اپنے شرائط اور ٹائم لائن پر ہوگا۔5 نکات یہ تھے۔
امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے تمام جارحیت، حملوں اور ایرانی عہدیداروں/جوہری سائنسدانوں کو قتل کرنے کی مہم کا فوری اور مکمل خاتمہ۔
جنگ کے دوبارہ شروع نہ ہونے کی مضبوط بین الاقوامی ضمانتیں اور کنکریٹ میکانزم۔
جنگ کے مالی، انسانی اور بنیادی ڈھانچے کے تمام نقصانات کی تلافی اور مکمل ہرجانہ
خطے کے تمام محاذوں (لبنان، فلسطین وغیرہ) پر ایران کی حمایت یافتہ مزاحمتی گروہوں کے خلاف لڑائی کا مکمل خاتمہ۔
آبنائے ہرمز پر ایران کے قدرتی اور قانونی حقِ خودمختاری کا مکمل اعتراف، بشمول بحری نقل و حرکت پر ایران کا اختیار۔

ایران کا 10 نکاتی منصوبہ (اپریل 2026)
5 نکات کے توسیع شدہ ورژن کے طور پر ایران نے پاکستان کے ذریعے 10 نکاتی جوابی منصوبہ پیش کیا، جسے امریکہ نے بات چیت کے لیے موزوں قرار دیا۔ یہ منصوبہ مستقل امن پر زور دیتا ہے نہ کہ عارضی جنگ بندی پر۔ اہم نکات یہ ہیں۔
1۔جنگ کا حتمی اور مستقل خاتمہ
2۔ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر دوبارہ حملوں یا جارحیت نہ کرنے کی پختہ ضمانتیں۔
3۔ آبنائے ہرمز پر ایران کی مکمل خودمختاری اور کنٹرول کا تسلیم (ایران “regulated/controlled passage” کی تجویز دیتا ہے، جو اس کی فوج کے ساتھ ہم آہنگ ہو، اور ممکنہ طور پر جہازوں پر فیس/چارجز لگانے کا حق)۔
4۔ ایران کے جوہری افزودگی پروگرام کو تسلیم کرنا۔
5۔ تمام معاشی پابندیوں کا مکمل خاتمہ۔
6۔اقوام متحدہ اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی تمام قراردادوں کا خاتمہ۔
7۔جنگ کے مالی، انسانی اور بنیادی ڈھانچے کے نقصانات کا مکمل معاوضہ۔
8۔ ایران کے تمام منجمد اثاثوں کی فوری واپسی۔
9۔ خطے سے امریکہ کی تمام فورسزکا انخلا۔
10۔. لبنان (حزب اللہ کے خلاف) سمیت خطے کے تمام محاذوں پر لڑائی کا مکمل خاتمہ۔
بعض رپورٹس میں اضافی نکات جیسے جوہری ہتھیار نہ بنانے کا عزم اور بین الاقوامی ضمانتیں/اقوام متحدہ کی نئی قرارداد بھی شامل ہیں۔

پاکستان کی ثالثی اور موجودہ صورتحال
پاکستان نے دونوں فریقوں کے درمیان واحد رابطہ ذریعہ کا کردار ادا کیا۔ پاکستان نے دو مرحلوں پر مشتمل امن منصوبہ تیار کیا: پہلے فوری جنگ بندی، پھر جامع معاہدہ۔ اسے مفاہمت کی یادداشت یعنی ایم اویو کی شکل دی جائے گی، جسے پاکستان حتمی شکل دے گا۔ ایگزیوس کے مطابق ثالثوں نے 45 روزہ جنگ بندی کی تجویز بھی دی تھی، جو مستقل امن کی طرف لے جا سکتی ہے۔

اتفاق رائے کے ممکنہ نکات اور بڑے اختلافات
دونوں فریق جنگ بندی کی اہمیت، خطے میں کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز کو محفوظ بحری راستہ بنانے پر کسی حد تک متفق نظر آتے ہیں۔ تاہم بڑے اختلافات یہ ہیں:

  • یورینیم افزودگی کا خاتمہ (امریکہ کا مطالبہ بمقابلہ ایران کا تسلیم کروانا)۔
  • امریکی فوج کا خطے سے مکمل انخلا۔
  • جوہری مراکز کا خاتمہ بمقابلہ ایران کی افزودگی کا حق۔
  • نقصانات کی تلافی اور پابندیوں کا مکمل خاتمہ۔