خیبر پختونخوا ، ادویات خریداری میں کرپشن پر سابق ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر شوکت علی گرفتار
قومی احتساب بیورو نے احاطہ عدالت سے گرفتار کیا ,قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام
فائل فوٹو
پشاور:ادویات کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں اور کرپشن اسکینڈل میں سابق ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر شوکت علی کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا ۔ پشاور ہائی کورٹ نے کیس میں ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر شوکت علی کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی، جس کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا۔
کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج جسٹس ظفر علی شاہ نے کی ۔ دورانِ سماعت ملزم کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں، کیس میں مختلف سطح پر انکوائریاں کی جا چکی ہیں تاہم کہیں سے بھی اس کی ملوث ہونے کے شواہد سامنے نہیں آئے، اور تمام خریداری کے امور قواعد کے مطابق انجام دیے گئے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ڈاکٹر شوکت علی کو قبل از گرفتاری ضمانت دی جائے۔
دوسری جانب نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈاکٹر شوکت علی نے دیگر ملزمان کے ساتھ مل کر قواعد کے برعکس سرکاری ہسپتالوں کے لیے ادویات کی خریداری کی، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔
پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ ایسے مرحلے پر ملزم کو قبل از گرفتاری ضمانت دینا مناسب نہیں ہوگا۔فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ دستیاب شواہد کی روشنی میں ملزم کو ریلیف نہیں دیا جا سکتا جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ڈاکٹر شوکت علی کو حراست میں لے لیا۔
یاد رہے کہ مذکورہ کیس کی انکوائری سابق وزیر اعلی علی امین گنڈاپور کے دور میں بھی کی گئی تھی ان کے مشیر انٹی کرپشن مصدق عباسی کے سربراہی میں قائم کمیٹی نے ڈاکٹر شوکت سمیت 10سے زائد ملازمین پر الزام ثابت ہونے پر 17، 17کروڑ روپے وصولی کی بھی سفارش کی تھی تاہم بعد میں اسی کیس کی انکوائری نیب میں شروع ہوگئی ۔
واضح رہے کہ نگران دور میں سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی کیلیے خریدی گئی ادویات میں ایک ارب 80کروڑ روپے سے زائد کی کرپشن ثابت ہوئی تھی۔