امریکی قبضے کے بعد وینزویلا میں تیل کی پیداوار کم کیوں ہوگئی؟
یونٹس کو دوبارہ شروع کرنے کے بعد انہیں مسلسل فعال رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے
امریکہ نے وینزویلا کے صدر کو اغوا کر کے وہاں ایک طرح سے قبضہ کیا اور سوچا کہ وینزویلا کا تیل بیچ کر منافع کمائے گا لیکن اب وہاں کی ریفائنریز میں پیداوار الٹا کم ہو گئی ہے۔
وینزویلا کا ریفائننگ نیٹ ورک اس وقت روزانہ تقریباً3لاکھ 99 ہزاربیرل خام تیل صاف کر رہا ہے، جو اس کی1اعشاریہ 29ملین بیرل یومیہ کی مجموعی صلاحیت کا صرف 31 فیصد ہے۔ یہ فروری میں حاصل کردہ 35 فیصد صلاحیت سے کم ہے۔ ورکرز کے مطابق، سرکاری کمپنی PDVSA یونٹس کو دوبارہ شروع کرنے کے بعد انہیں مسلسل فعال رکھنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
جنوری میں امریکی حکومت کے ساتھ سپلائی کے ایک اہم معاہدے کے بعد اس جنوبی امریکی ملک نے تیل کی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ تو کیا ہے، لیکن بجلی کی محدود فراہمی، لوڈ شیڈنگ اور بڑے پیمانے پر مرمت و دیکھ بھال کی ضرورت ریفائننگ آپریشنز کی بحالی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں کمپنی نے کئی ریفائنریز میں ایندھن بنانے والے یونٹس کو دوبارہ شروع کرنے پر توجہ دی ہے، لیکن ورکرز کا کہنا ہے کہ کچھ فلوئڈ کیٹلیٹک کریکرز (fluid catalytic crackers) مسلسل چلنے کے قابل نہیں رہے۔
ملک میں9لاکھ 55 ہزاربیرل یومیہ صلاحیت کے سب سے بڑے کمپلیکس پراگوانا ریفائننگ سینٹر میں اس ہفتے خام تیل کشید کرنے والے چار یونٹس کام کر رہے تھے جو تقریباً2لاکھ 37 ہزاربیرل تیل صاف کر رہے ہیں، وہاں صرف ایک کیٹلیٹک کریکر فعال ہے۔ اسی طرح،1لاکھ 87 ہزاربیرل کی صلاحیت والی پورٹو لا کروزریفائنری میں دو یونٹس 82 ہزاربیرل تیل صاف کر رہے ہیں۔ ملک کی سب سے چھوٹی ریفائنری ایل پالیٹو (صلاحیت1لاکھ 46ہزاربیرل) میں ایک یونٹ تقریباً 80ہزاربیرل کے ساتھ متحرک ہے اور وہاں ایک کیٹلیٹک کریکر بھی کام کر رہا ہے۔
وینزویلا، جو مقامی سطح پر ایندھن ملکی اور غیر ملکی کرنسی کے امتزاج سے فروخت کرتا ہے، ماضی میں ایندھن کی شدید قلت کا شکار رہا ہے جس کی وجہ سے ڈرائیوروں کو پیٹرول پمپوں پر کئی دنوں تک قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا تھا۔ جہازوں کی ٹریکنگ کے ڈیٹا کے مطابق، امریکی اجازت ناموں کے تحت PDVSA اس سال نافتھا (naphtha) درآمد کر رہا ہے تاکہ اسے اپنی مقامی ایندھن کی پیداوار کو پورا کرنے کے لیے استعمال کر سکے۔
جنوری میں امریکی آپریشن کے بعد ماہرین کا کہنا تھا کہ وینزویلاکے پاس دنیا میں سب سے بڑے خام تیل کے ذخائر ہیں، جو امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق تقریباً 303 ارب بیرل یا عالمی مجموعی ذخائر کا 17 فیصد ہیں۔ تاہم، تیل کی صنعت کی بحالی ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔
نیشنل سینٹر فار انرجی اینالیٹکس کے سینئر تجزیہ کار نیل اٹکنسن نے بتایاتھاکہ وینزویلا کی تیل کی صنعت طویل عرصہ سے زوال کا شکار ہے۔ 1999 میں یہاں یومیہ 35 لاکھ بیرل تیل پیدا ہوتا تھا، جو بتدریج کم ہو کر ایک وقت میں 5 لاکھ بیرل تک رہ گیا تھا، اور اب یہ 10 لاکھ بیرل سے کچھ کم ہے۔
صنعت کی بحالی کے لیے انفراسٹرکچر کی ابتر حالت اور سیکیورٹی کے مسائل بڑی رکاوٹیں ہیں۔ اٹکنسن کا کہناتھا کہ تیل کی تنصیبات دور دراز علاقوں میں واقع ہیں جہاں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، سرمایہ کاری کے لیے اربوں ڈالر درکار ہوں گے، لیکن جب تک صنعت کی موجودہ حالت کا درست جائزہ نہیں لیا جاتا، اخراجات کا تعین کرنا مشکل ہے۔
ایکسن موبل (ExxonMobil) جیسی بڑی کمپنیوں نے موجودہ حالات میں سرمایہ کاری کو مشکل قرار دیا تھا۔ انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے تجزیہ کاروں کا ماننا تھا کہ کمپنیوں کو واپس لانے کے لیے ایک واضح منصوبے اور سیکیورٹی کی ضرورت ہوگی۔ چونکہ وینزویلا نے اپنی تیل کی صنعت کو قومی ملکیت میں لے رکھا ہے، اس لیے کسی بھی بڑی تبدیلی کے لیے قانونی اور ریگولیٹری ترامیم درکار ہوں گی جو کہ ایک طویل عمل ہے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق تیل کے وسائل تک رسائی کے لیے سیاسی تصفیہ اور مذاکرات ضروری ہوں گے، کیونکہ موجودہ ڈھانچہ برسوں کی معاشی تنہائی کے باوجود برقرار رہا ہے۔ قانونی غیر یقینی صورتحال اور سیاسی خطرات کی وجہ سے یہ عمل سست اور پیچیدہ ہو سکتا ہے۔