امریکی مون مشن کے دوران ایک حیرت انگیز منظر کیمرے میں محفوظ
آرٹیمس II مشن یکم اپریل کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے 10 روزہ سفر کے لیے روانہ ہوا تھا
تصویر: ناسا
خلا سے لی گئی ایک حیرت انگیز تصویر نے ایک نایاب دوہرا منظر محفوظ کیا ہے۔ ہر سال ہزاروں لوگ زمین کے جنوبی اور شمالی حصوں کا رخ کرتے ہیں تاکہ ارورا (قطبی روشنیوں) کا دلفریب نظارہ کر سکیں، لیکن خلا بازوں کی لی گئی ایک تصویر میں ہی یہ دونوں نظارے ایک ساتھ دیکھے جا سکتے ہیں۔
یہ تصویر ناساکے آرٹیمس2 مشن کا حصہ ہے، جو چاند کی جانب 10 روزہ تاریخی سفر پر گیا۔آرٹیمس II مشن یکم اپریل کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے روانہ ہوا تھا۔
اس تصویر میں زمین کے نیچے بائیں جانب آرورا بوریلس(شمالی روشنیاں۔Borealis) اور اوپر دائیں جانب آرورا آسٹریلس (جنوبی روشنیاں۔Australis ) واضح طور پرنظرآئیں ۔انہیں Auroral Oval کہتے ہیں۔خلائی ماہرین کے مطابق ،یہ دونوں اکثر ایک دوسرے کا عکس ہوتی ہیں۔
‘آرورل اوول فضا کی وہ سرحد ہے جو قطبی خطے کی انتہائی کھچی ہوئی فیلڈ لائنوں اور نچلے عرض بلد کی نسبتاً نارمل فیلڈ لائنوں کے درمیان ہوتی ہے۔
ناسا کے مطابق، قطبی روشنیاں اس وقت بنتی ہیں جب سورج سے آنے والے توانائی بھرے ذرات زمین کے مقناطیسی میدان اور ماحول سے ٹکراتے ہیں جس کے نتیجے میں گہرے سبز، سرخ اور بنفشی رنگ کی روشنی پیدا ہوتی ہے۔
زمین کے دونوں حصوں میں ایک مدھم سبز چمک ایک ہی فریم کے اندر نظر آ رہی ہے، جو زمین کی سطح سے دیکھنا ممکن نہیں۔ ناسا کا کہنا ہے کہ ایسی تصاویر نہ صرف بصری حسن فراہم کرتی ہیں بلکہ کرہ ہوائی کا قیمتی ڈیٹا بھی دیتی ہیں۔
ایسا نظارہ سائنسدانوں کو ایک ہی مقام سے زمین کی مقناطیسی سرگرمی (geomagnetic activity) کی عالمی وسعت کا مشاہدہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
بیچ خلا سے دونوں ارورا کو ایک ساتھ دیکھنا سیاروںپر شمسی توانائی اور زمین کے مقناطیسی ماحول کے درمیان باہمی عمل کو ظاہر کرتا ہے۔
ناسا نے اس بات پر زور دیا کہ مدار سے نظر آنے والا یہ منظر عالمی تعلق کا احساس پیدا کرتا ہے، جو سیارے کو قدرتی عجائبات سے روشن ایک مشترکہ گھر کے طور پر دکھاتا ہے۔ ایجنسی نے زمین کے گہرے نیلے، بھورے رنگوں اور سبز ارورل چمک کو خلابازوں کے سفر کے دوران ایک متحد کرنے والی تصویر قرار دیا۔