ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں سخت سکیورٹی انتظامات

امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، مشیر سٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں۔

               
April 9, 2026 · اہم خبریں

اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا عمل دس اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہو رہا ہے۔ مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے ایرانی اور امریکی وفود پاکستان پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔

ایرانی مذاکراتی وفد کی قیادت ایران کی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے، جبکہ امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، مشیر سٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں۔

اسلام آباد اور راولپنڈی انتظامیہ نے دو دن کی مقامی تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ مذاکرات میں حصہ لینے والے افراد کو ریڈ زون میں واقع پانچ اسٹار ہوٹل میں ٹھہرایا جا رہا ہے، جہاں سکیورٹی کا کنٹرول فوج کے پاس ہوگا اور رینجرز و پولیس اہلکار بھی تعینات ہوں گے۔ ریڈ زون کی حدود زیرو پوائنٹ سے فیصل مسجد تک پھیلا دی گئی ہیں اور اس دوران صرف سرکاری گاڑیوں کو داخلے کی اجازت ہوگی۔

ضلعی انتظامیہ نے خصوصی ٹریفک پلان بھی جاری کیا ہے جس کے تحت اسلام آباد ہائی وے اور سرینگر ہائی وے کو بعض اوقات بند کیا جائے گا تاکہ غیر ملکی وفود ہوائی اڈے سے ہوٹل تک باآسانی پہنچ سکیں۔

جڑواں شہروں میں سکول، کالجز اور عدالتیں بند رہیں گی جبکہ دفعہ 144 نافذ ہے، جس کے مطابق پانچ یا اس سے زائد افراد کا اکٹھا ہونا ممنوع ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے آج راولپنڈی میں ہونے والا احتجاجی جلسہ منسوخ کر دیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا نمائندے بھی مذاکرات کی کوریج کے لیے پاکستان پہنچ رہے ہیں، اور مختلف ممالک سے پچاس سے زیادہ صحافی ویزے کے لیے درخواستیں دے چکے ہیں۔