پرانے لباس نے اغوا شدہ لڑکی کو 20 برس بعد خاندان سے ملادیا

کائنات کو 2005 میں گلگت سے لاہورلایاگیا تھا۔اب تین بچوں کی ماں ہیں

               

تصویر: اردونیوز

ایک پرانے لباس نے جو 20 برس پہلے اغوا ہونے کے وقت بچی نے پہن رکھاتھا بالآخر لاپتالڑکی کو اس کے اصل خاندان سے ملا دیا۔

2005 میں گلگت سے چار یا پانچ سال کی عمر میں کائنات (اصل نام عائشہ صدیقہ)کو اغوا کر کے لاہور داتا دربار لایا گیا جہاں سے وہ ایک خاتون کی پناہ میں چلی گئیں۔ وہ اس وقت صرف شینا زبان بول سکتی تھیں۔

اس خاتون کے ہاں ایک فوتگی پر جب محمد سہیل اُن کے گھر آئے تو انہوں نے کائنات کو پہلی بار دیکھا۔ اس حوالے سے انہوں نے بتایا کہ میں کائنات کے قریب گیا اور اُن سے رونے کی وجہ دریافت کی۔کائنات نے انہیںبتایا کہ میں اغوا ہوئی تھی اور اب یہاں یہ خاتون میری شادی بڑی عمر کے ایک شخص کے ساتھ کرانا چاہتی ہے۔ میں نے اسے تسلی دی اور کچھ پیسے بھی دیے۔

اس گفتگو کے بعد محمد سہیل کائنات کے ساتھ رابطے میں رہے اور پھر ایک روز انہیں کہا کہ اگر آپ پر ظلم ہو رہا ہے تو آپ ہمارے ہاں آجائیں۔ یوں کائنات اُن کے گھر چلی گئیں۔ بالغ ہونے کے بعد خاندان کے مشورے اور ان کی رضامندی سے سہیل کے ساتھ کائنات کی شادی ہو گئی۔

شادی کے بعد یک دن انہوں نےخاوند سے کہا کہ کیا تم مجھے میرے اصل خاندان سے ملا سکتے ہو؟ اسی دوران انہوں نے الماری سے وہ پرانا سوٹ نکال کر دکھایا جو اغوا کے وقت ان کے جسم پر تھا۔

سہیل نے پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے پروجیکٹ ’’میرا پیارا‘‘ ٹیم سے رابطہ کیا۔ یہ ٹیم اب تک 64ہزارسے زائد لاپتا افراد کو ان کے خاندانوں سے ملا چکی ہے۔ ٹیم نے کائنات کا وڈیو انٹرویو لیا۔ انہوں نے اپنے والد کے کام، چار بھائیوں اور ایک بہن کی تفصیلات بتائیں۔ سوٹ کی تصویر بھی شیئر کی گئی۔

میرا پیارا ٹیم نے سوشل میڈیا پر مہم چلائی اور گلگت پولیس سے رابطہ کیا۔ شینا بولنے والے علاقوں میں پیغام پھیلایا گیا۔ چندروزبعد ایک خاندان نے دعویٰ کیا کہ یہ ان کی لاپتا بیٹی ہو سکتی ہے۔ تصدیق کے بعد رشتہ دار لاہور آئے۔ والدین کو بھی گلگت سے بلایا گیا۔

جب کائنات اپنے والدین سے ملیں تو آنسوؤں کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ سوٹ دکھا کرحتمی تصدیق کی گئی۔ قانونی تقاضاپوراکرتے ہوئے یقین دہانی کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ بھی کیا گیاہے۔

کائنات اب تین بچوں کی ماں ہیں۔ سہیل نے اپنی بیو ی کے والدین سے کہا کہ وہ کائنات کو کچھ وقت اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں ۔

 

ٹیگز: