چین کی ثالثی کامیاب۔ پاکستان اور افغانستان میں برف پگھلنے لگی
فریقین کا دہشتگردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر زور
اسلام آباد(افضل شاہ یوسفزئی) چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے میڈیا بریفنگ میں بتایا ہے کہ چینی وزیر خارجہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کے بعد تینوں ممالک کے وفود نے یکم سے 7 اپریل تک ارومچی میں ایک ہفتہ طویل غیر رسمی مذاکرات کیے۔
ترجمان کے مطابق مذاکرات میں خارجہ، دفاع اور سیکیورٹی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ بات چیت کھلے اور مثبت ماحول میں ہوئی جس میں مسائل کے حل اور عملی اقدامات پر توجہ دی گئی۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اور افغانستان نے چینی صدر کی جانب سے پیش کردہ گلوبل سیکیورٹی انیشیٹو اور ایشیائی سیکیورٹی ماڈل کو سراہا اور چین کی میزبانی و ثالثی کے کردار کو اہم قرار دیا۔
تینوں ممالک نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر عملدرآمد، اختلافات کے جلد حل اور کشیدگی سے گریز پر اتفاق کیا۔ چین نے یقین دہانی کرائی کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے برقرار رکھنے اور سہ فریقی تعاون کو فروغ دینے میں اپنا کردار جاری رکھے گا۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان اور افغانستان برادر اسلامی ممالک اور ہمسایہ ہیں، اور دونوں کے درمیان بہتر تعلقات خطے کے امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہیں
فریقین نے اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ دہشتگردی دونوں ممالک کے تعلقات میں بنیادی مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے جامع حکمت عملی اپنائی جائے گی، جبکہ ارومچی عمل کو جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔