یوم دستور پر صدرمملکت آصف زرداری۔ وزیراعظم شہباز شریف کے پیغامات

1973کا آئین وفاق پاکستان اور قومی اتحاد کی درخشندہ علامت ہے۔

               
April 10, 2026 · قومی

یومِ دستور 10 اپریل 2026 کے موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہبازشریف نے پیغامات جاری کئے ہیں۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور 10 اپریل 1973 کو منظور کیا گیاجو ہمارے ریاستی ڈھانچے کا بنیادی قانونی اور سیاسی فریم ورک ہے۔دستور نے پہلی بار ایک براہِ راست منتخب ہونے والی پارلیمنٹ کے ذریعے، بالغ رائے دہی کی بنیاد پر، ملک کو ایک متفقہ آئینی نظام فراہم کیا۔ ایک چوتھائی صدی سے زائد عرصے کی غیر یقینی صورتحال اور سابقہ ناکام کوششوں کے بعد یہ ممکن ہوا۔اس دستور کی تشکیل کا عمل نہ مختصر تھا اور نہ ہی آسان۔ ایک سال سے زائد عرصے تک مختلف سیاسی قوتوں کے درمیان مسلسل مذاکرات، تحمل اور اتفاقِ رائے سے وفاقی، پارلیمانی اور جمہوری آئین کی صورت میں نکلا، جس کی اس وقت پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں نے توثیق کی۔ یہی اتفاقِ رائے اس کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ دن شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بھی ہے، جو 1973 کے دستور کے معمارِ اعظم تھے۔ ان کی قیادت نے ایک نازک مرحلے پر مختلف سیاسی قوتوں کو متحد کر کے اتفاقِ رائے پیدا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان جمہوری سیاسی جماعتوں کے کردار کو بھی تسلیم کرتے ہیں، جنہوں نے مختلف ادوار میں آئین کے دفاع میں اپنا حصہ ڈالا۔انہوں نے کہا کہ ہم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو بھی یاد کرتے ہیں، جنہوں نے مارشل لا کے نفاذ کے بعد مشکل حالات میں جمہوری جدوجہد کو آگے بڑھایا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ 1973کا آئین وفاق پاکستان اور قومی اتحاد کی درخشندہ علامت ہے،تمام ریاستی اکائیاں قومی یگانگت اور مجموعی معاشی ترقی و خوشحالی کے لیے اپنا آئینی کردار خوش اسلوبی سے سر انجام دے رہی ہیں،پاکستان اقوام عالم میں اپنا سر فخر سے بلند کئےترقی و خوشحالی کا سفر جاری رکھے گا۔

وزیراعظم نے کہا آج ہم آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان کی منظوری کا دن قومی جذبہ سے منا رہے ہیں، ہم دستور کے معماروں کو خصوصی خراج تحسین پیش کرتے ہیں، آئین عوام اور ریاست کے مابین مقدس معاہدے کا نام ہے جو دونوں کے حقوق و فرائض کا قانونی، اخلاقی اور انتظامی تعین کرتا ہے۔ 10 اپریل 1973 کو منظور کیے گئے متفقہ آئین پاکستان نے ملک میں پارلیمانی جمہوری نظام حکومت اور ریاست پاکستان کے مضبوط ادراجاتی ڈھانچے کی بنیاد رکھی۔

انہوں نے کہا کہ 1973کا آئین پاکستان تمام شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا محافظ ہے، یہ آئینی دستاویز تفصیل سےنہ صرف بنیادی انسانی حقوق کو بیان کرتی ہے بلکہ ان کی فراہمی کے لئے قانونی لائحہ عمل کو بھی یقینی بناتی ہے۔انہوں نے کہا کہ 1973کا آئین وفاق پاکستان اور قومی اتحاد کی درخشندہ علامت ہے۔