’’سب کچھ ٹھیک ہے ،الحمدللہ‘‘۔پاکستانی حکام۔ سخت رازداری میں 2 مراحل پر محیط امن مذاکرات کی تیاریاں مکمل
ریڈ زون مکمل طور پر سیل ۔ف متعلقہ افراد کو ہی داخلے کی اجازت ہوگی۔خصوصی کنٹرول روم بھی قائم
امن مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں سخت سیکیورٹی
ایران جنگ رکوانے اور عارضی جنگ بندی کو مستقل بناکر آبنائے ہرمزکھولنے کے لیے سخت رازداری کے ماحول میں اسلام آباد امن مذاکرات کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔
سکیورٹی وجوہات کی بنا پر مذاکراتی وفود کی نقل و حرکت پوشیدہ رکھے جانے کا امکان ہے، لیکن اسلام آباد میں صورتحال سے آگاہ ایک ذریعے نے بتایا کہ فی الحال توقع یہی ہے کہ مذاکرات کا یہ مرحلہ دو دنوں پر محیط ہوگا۔ذریعے کا دعویٰ ہے کہ جمعے کو پاکستانی قیادت دونوں وفود کے ساتھ ساتھ علیحدہ ملاقاتیں کرے گی اور سنیچر کو بالواسطہ یا بلاواسطہ مذاکرات ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے کی توقع ہے۔
کچھ مبصرین کو خدشہ ہے کہ شاید مذاکرات کے پہلے دور میں ایران اور امریکہ کے درمیان معاملات نمٹ نہ سکیں۔
مذاکرات کے دوران امریکی وفد اپنی گاڑیاں استعمال کرے گا۔ایران امریکا مذاکرات کے لیے امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کی آمد سے قبل جمعرات کو خصوصی طیارے کی آمد ہوئی۔ خصوصی طیارے سی 15 میں امریکی وفدکیلئے خصوصی گاڑیاں بھی پاکستان پہنچیں۔بتایا جارہا ہے کہ ان گاڑیوں کو امریکی وفد کی نقل و حرکت کیلئے استعمال کیا جائے گا۔
ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کردیاگیاہے اور صرف متعلقہ افراد کو ہی داخلے کی اجازت ہوگی، وزارت داخلہ میں ایک خصوصی کنٹرول روم بھی قائم کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطح مذاکرات میں دنیا کی 5 بااثر شخصیات شریک ہو رہی ہیں، جن کا کردار نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست اور امن کی سمت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
امریکی وفد کی سربراہی نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔ ان کے ساتھ صدارتی ایلچی سٹیووٹکوف اور جیرڈ کشنر ہیں۔ ایرانی مذاکرات کارٹیم پارلیمانی اسپیکر باقرقالیباف اور وزیرخارجہ عباس عراقچی پر مشتمل ہے۔
ان پانچوں شخصیات کی موجودگی اسلام آباد مذاکرات کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہے، جہاں ممکنہ طور پر خطے کے مستقبل، عالمی تعلقات اور امن کی نئی جہتوں کا تعین کیا جا سکتا ہے۔
پاکستانی حکام نے صورتحال کو قابو میں قراردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطح پر مشاورت میں واضح کیا گیا ہے کہ ’اب سب کچھ ٹھیک ہے، الحمدللہ۔اہم پیشرفت سے باخبر شخصیات اس پورے عمل پر سخت رازداری اختیار کیے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا بیرونی مداخلت سے بچا جا سکے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ اس مرحلے پر خاموش سفارت کاری ہی کامیاب مذاکرات کی ضمانت بن سکتی ہے۔