تیل و گیس مہنگی ہونے سے گدھوں کی قدر بڑھ گئی
60 ہزار روپے والا گدھا سوا لاکھ تک مل رہا ہے- گاڑی کی قیمت 40 ہزار سے 70 ہزار روپے- جانور میں زیادہ بوجھ ڈالا جانے لگا-
فائل فوٹو
اقبال اعوان:
تیل اور گیس مہنگا ہونے پر کراچی میں گدھوں کی طلب بڑھ گئی ہے ان کی قیمتوں میں بھی 50 فیصد اضافہ کردیا گیا ہے۔ ایک جانب جہاں گدھا گاڑیوں پر بے انتہا لوڈ ڈالا جانے لگا ہے اور روزگار بڑھا ہے تو دوسری طرف پولیس میں انسداد بے رحمی جانوروں کا ایکٹ ہونے کے باوجود گدھے پر اضافی بوجھ ڈالنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔
تجارتی مراکز، جوڑیا بازار اور فشری میں ان کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ اس وقت 60 ہزار روپے والا گدھا سوا لاکھ روپے تک مل رہا ہے۔ جبکہ گدھا گاڑی 40 ہزار والی 70 ہزار روپے تک مل رہی ہے۔ ایران کے گدھے نہ آنے پر سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے گدھوں کی مانگ بڑھ گئی ہے۔
واضح رہے کہ کراچی میں ایک بار پھر گدھا گاڑیوں کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ چونکہ اونٹ گاڑی گاڑی ہر جگہ نہیں آ جا نہیں سکتی۔ اس لیے اس کا استعمال دس سے پندرہ فیصد ہے۔ موجودہ حالات میں پیٹرول، ڈیزل، سی این جی، ایل این جی غائب اور ایل پی جی کی قیمتیں بڑھنے سے مزدا ٹرک، ٹرالر، سوزوکی کیری، ڈاٹسن سمیت دیگر لوڈنگ گاڑیوں کی ڈیمانڈ کرائے بڑھنے پر کم ہو گئی ہے۔ اب 100 فیصد کرائے ادا کرنے والے گدھا گاڑی کر کے وہ کام 30/35 فیصد رقم میں کرا لیتے ہیں۔
کراچی میں شیر شاہ کباڑی مارکیٹ کے قریب لیاری ندی میں اتوار کی صبح سے شام تک اور لانڈھی بھینس کالونی مویشی منڈی کے باہر جمعہ کے روز صبح سے دوپہر تک گدھا منڈی لگتی ہے۔ وہاں استعمال شدہ دو پہیوں والی اور چار پہیے والی گدھا گاڑی بھی فروخت ہوتی ہے۔ کراچی فشری سے چھوٹی لانچوں کو ابراہیم حیدری یا ریڑھی گوٹھ، ہاکس بے کے قریب رحمان گوٹھ تک گدھا گاڑی والا لے کر جاتا ہے۔ اسی طرح جوڑیا بازار میں لوہا مارکیٹ کے سریے، گاردر، لوہے کی پلیٹیں اور دیگر سامان لے جانے کیلئیب بھی اسے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ شہر میں تعمیراتی میٹریل، بلاکس، بجری، ملبہ اور سیمنٹ کی بوریوں سمیت دیگر مٹیریل بھی گھا گاڑی میں ڈھویا جاتا ہے۔
گدھا گاڑی والے اکبر کا کہنا ہے کہ بائیک ٹرالر یا سوزوکی کیری اور مزدا ٹرک تک کا کام گدھا گاڑی والے کرتے ہیں۔ گزشتہ برس تک روزگار کم تھا۔ لیکن اس وقت جنگی صورتحال میں تیل، ایل پی جی مہنگی ہونے سے ٹرانسپورٹ کرائے بڑھ گئے ہیں۔ اب اجناس منڈی سمیت دیگر مارکیٹوں کا سامان گدھا گاڑیوں میں لے کر آتے ہیں۔ اب گدھے کو ہری گھاس، دانہ بھی ملتا ہے اور رات کو لوہے کی برش سے مالش بھی کی جاتی ہے۔
ایک سوال پر اس کا کہنا تھا کہ گدھوں کی قیمتوں اور گدھا گاڑی کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔ نارمل گاڑی دو پہیے والی پرانی بھی 50/55 ہزار روپے کی مل رہی ہے اور نئی تو 70/80 ہزار یا اس سے زائد کی ہے۔ گدھے والے میرو نے کہا کہ ایران سے بھی گدھے آتے تھے، جو 60/70 ہزار روپے تک مل جاتا تھا۔
ریسر گاڑی والے بھی لاکھ ڈیڑھ لاکھ میں خریدتے تھے۔ اب ایرانی گدھے نہیں آرہے۔ البتہ بلوچستان کے شہروں خضدار، گوادر، تربت سے منڈی میں آتے ہیں۔ سندھ کے شہر بدین، تلہار میں بھی ملک بھر اور دوسرے ملکوں سے لائے جانے والے گدھوں کی سالانہ منڈی لگتی ہے۔ اس نے بتایا کہ لیاری، گارڈن، اولڈ سٹی ایریا، ناتھا خان گوٹھ، قیوم آباد اور کچی آبادیوں میں گدھے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔
گدھا گاڑی والے جبار کا کہنا تھا کہ گدھا گاڑی کی قیمت اچھی اقسام کی لکڑی مہنگی ہونے، کیل، لوہے کا دیگر میٹریل ٹائر ٹیوب اور دیگر سامان مہنگا ہونے پر بڑھ گئی ہے۔ پرانی بھی کم ملتی ہے۔ موجودہ حالات میں گدھا گاڑی کا ایک چکر اچھی دیہاڑی بنا دیتا ہے۔ راستے میں اضافی سامان دیکھ کر پولیس یا ٹریفک پولیس والے روکتے ہیں تو مک مکا کر لیتے ہیں۔ کیونکہ اکثریت کی رجسٹریشن نہیں ہوتی۔ 30/40 سال قبل کے ایم سی والے علاقے میں رجسٹریشن کر کے نمبر پلیٹ دیتے تھے۔ اب کوئی چیک نہیں کرتا۔
ایک ریٹائرڈ پولیس آفیسر رفیق نے بتایا کہ انگریز دور میں کراچی کے اندر انسداد بے رحمی ایکٹ پر عمل درآمد ہوتا تھا۔ زخمی جانور گھوڑے، اونٹ، گدھے، بیل کو استعمال کرنے یا اضافی بوجھ ڈالنے پر گاڑی والے کے خلاف کارروائی ہوتی تھی۔ لیکن اب انسانوں کو تحفظ پورا نہیں ملتا تو جانوروں کو کون پوچھے گا۔