موسمیاتی تبدیلیاں پینگوئن اور فر سیل کونگلنے کے لیے تیار۔ معدومیت کے خطرے کاالرٹ جاری
انٹرنیشنل یونین فار دی کنزرویشن آف نیچرکی ریڈ لسٹ میں شامل ۔ گرم ہوتے سمندر، پگھلتی برف اورغذائی کمی وجوہات
تصاویر: سی جی ٹی این
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی موسمیاتی تبدیلی دو معروف قطبی انواع،ایمپیرر پینگوئن اور اینٹارکٹک فر سیل،کو شدید خطرات سے دوچار کر رہی ہے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق انٹرنیشنل یونین فار دی کنزرویشن آف نیچر (IUCN) نے اپنی ریڈ لسٹ میں ان انواع کی بگڑتی صورتحال کو نمایاں کیا ہے، جہاں گرم ہوتے سمندر، پگھلتی برف اور خوراک کی کمی کو بنیادی وجوہات قرار دیا گیا ہے۔
آئی یوسی این ریڈ لسٹ دنیا بھر میں خطرے سے دوچار انواع کی ایک مستند فہرست ہے، جو نہ صرف انواع کی درجہ بندی کرتی ہے بلکہ ان کے زوال کی وجوہات بھی بیان کرتی ہے۔ یہ فہرست امریکی قانون “اینڈینجرڈ اسپیشیز ایکٹ (ESA)” سے مختلف ہے، جس کے تحت 2022 میں ایمپیرر پینگوئن کو “خطرے میں” قرار دیا گیا تھا، انٹارکٹک فر سیل ابھی تک اس میں شامل نہیں۔
ایمپیرر پینگوئن، جو تمام پینگوئنز میں سب سے بڑا ہے، تقریباً تین فٹ لمبا اور 100 پاؤنڈ وزنی ہو سکتا ہے۔ یہ پرندے اپنی افزائش نسل اور بقا کے لیے مکمل طور پر سمندری برف پر انحصار کرتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق 2009 سے 2018 کے درمیان ان کی آبادی میں تقریباً 10 فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ 2016 کے بعد سمندری برف میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً نصف کالونیوں میں افزائش نسل متاثر ہوئی یا مکمل طور پر ناکام رہی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو 2080 تک ان کی آبادی آدھی رہ جائے گی۔
اینٹارکٹک فر سیل، جو اس خطے کے چھوٹے سیلز میں شمار ہوتے ہیں، ایک وقت میں بے تحاشہ شکار کی وجہ سے معدومیت کے قریب پہنچ گئے تھے، تاہم تحفظ کے لیے اقدامات سے ان کی بحالی ممکن ہوئی۔ اب ایک بار پھر 1999 سے 2025 کے درمیان ان کی آبادی میں 50 فیصد سے زائد کمی آئی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث کرِل، جو ان کی بنیادی خوراک ہے، کی دستیابی کم ہو رہی ہے کیونکہ بڑھتے درجہ حرارت کے باعث یہ گہرے اور دور دراز پانیوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے، جس سے سیلز کے لیے خوراک حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق جنوبی بحرِ اوقیانوس میں ہونے والی یہ تبدیلیاں اس رجحان کی عکاسی کرتی ہیں جو پہلے ہی آرکٹک میں دیکھی جا چکی ہیں، جہاں کئی سیل انواع شدید کمی کا شکار ہو چکی ہیں۔
ایمپیرر پینگوئن اور اینٹارکٹک فر سیل کی بگڑتی حالت واضح کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ حیاتیاتی تنوع کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی دہائیوں میں یہ دلکش قطبی مخلوقات صرف تاریخ کا حصہ بن سکتی ہیں۔