مشرق وسطیٰ تنازع سے پیدامعاشی مسائل میں پاکستان کو مکمل مالی معاونت کی سعودی یقین دہانی
شہباز شریف سےسعودی وزیر خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان سے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات
تصویر: سوشل میڈیا اکائونٹ شہبازشریف
سعودی عرب نے پاکستان کو مشرق وسطیٰ کے تنازع سے پیدا ہونے والے معاشی مسائل سے نمٹنے کے لیے مکمل مالی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ یہ اعلان اُس وقت سامنے آیا جب پاکستان تقریباً 5 ارب ڈالرکے قرضوں کی ادائیگیاں کر رہا ہے اور درآمدات کی بڑھتی لاگت کے باعث بیرونی اکاؤنٹ کو مستحکم رکھنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی وزیر خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان سے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز، قرضوں کی ادائیگیوں اور ریزرو کی سطح کو برقرار رکھنے سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
حکومتی عہدیداروں کے مطابق سعودی وزیر خزانہ نے پاکستان کو سعودی عرب کی مکمل مالی معاونت کی یقین دہانی کرائی اور امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت میں پاکستان کی ثالثی پر سعودی عرب کے اعتماد کا اعادہ کیا۔
ملاقات میں ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، پاک فوج کے سربراہ ،چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور پیٹرولیم کے وزیرعلی پرویز ملک بھی موجود تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہدمحمد بن سلمان کے لیے نیک جذبات کا اظہار کیا۔ انہوں نے حالیہ ٹیلی فونک گفتگوکاحوالہ دیتے ہوئے ولی عہد کی پاکستان کے لیے گہری محبت اور سعودی عرب کی برسوں سے جاری معاشی و مالی معاونت کی تعریف کی، جو پاکستان کی معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ پاکستان کے عوام اور حکومت ہمیشہ سعودی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں اور یہ رشتہ ولی عہد محمد بن سلمان کی سرپرستی میں مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی سمیت تمام شعبوں میں سعودی عرب کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔
سعودی وزیر خزانہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ برادرانہ رشتوں کو مزید مضبوط کرنے کے سعودی عرب کے عزم کا اعادہ کیا، جیسا کہ ولی عہد محمد بن سلمان کا ویژن ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب سےکم از کم 5 ارب ڈالر کا نیا قرضہ اور1اعشاریہ 2 ارب ڈالر سالانہ آئل فنانسنگ کی سہولت میں توسیع کی درخواست کی تھی۔ سعودی آئل کی موجودہ سہولت اپریل میں ختم ہو رہی ہے، جسے پاکستان پانچ سال کے لیے مزید بڑھانا چاہتا ہے۔اس کے علاوہ پاکستان موجودہ 5 ارب ڈالر کے سعودی کیش ڈپازٹ کو کم از کم دگنا کرنے کا خواہاں ہے تاکہ غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر موجودہ سطح پر برقرار رہیں۔ اس ماہ پاکستان کو4اعشاریہ 8 ارب ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی کرنی ہے، جن میں ساڑھے 3ارب ڈالرمتحدہ عرب امارات کا قرض بھی شامل ہے۔ اگر نئی امداد نہ ملی تو ریزرو 11اعشاریہ 5 ارب ڈالر تک گر سکتے ہیں۔