’اسلام آبادٹاکس‘ کا مشکل ٹاسک۔جے ڈی وینس کا کیریئر دائو پر
نائب صدر کا شمار ان عقابوں میں ہوتا ہے جو امریکہ فرسٹ اور امریکہ کو دوبارہ عظیم بناؤ نعروں پر یقین رکھتے ہیں
کیمروں کی چکاچوندسے دور ایران ،امریکہ امن مذاکرات’’ اسلام آباد ٹاکس‘‘ نے’’ اہم گھنٹوں‘‘ کا آغازکردیاہے۔ مذاکراتی عمل کا کیا نتیجہ نکلے گا ،اس پر کوئی بھی پیش گوئی کرنے میں عالمی ذرائع ابلاغ دشواری محسوس کررہے ہیں۔اس کی وجہ صرف ایک شخص ہے۔ امریکی نائب صدر ، جے ڈی وینس۔
عرب میڈیاکے مطابق وینس کا شمار واشنگٹن کے ان عقابوں میں ہوتا ہے جو امریکہ فرسٹ اور امریکہ کو دوبارہ عظیم بناؤ (MAGA) کے نعروں پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ طاقت کے ذریعے جنگوں کے خاتمے اور امن کے حامی کی شناخت بھی رکھتے ہیں تاکہ امریکی سرحدوں سے باہر طویل تنازعات اور جنگوں میں نہ الجھنا پڑے۔ انھیں ٹرمپ کی موجودہ انتظامیہ میں ایران کے خلاف فوجی مہم کے سب سے مضبوط ناقد کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔
امریکی وفد میں وینس کے ہمراہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ وزارتِ خارجہ، دفاع اور قومی سلامتی کونسل کے حکام بھی اس کا حصہ ہیں۔
امریکی ذرائع نے وضاحت کی ہے کہ وینس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کے ساتھ سفارتی عمل میں کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔تاہم امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ،ٹرمپ نے خود ان سے کہاکہ وہ ان مذاکرات کی قیادت کریں۔ وائٹ ہاؤس کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وینس کی موجودگی مذاکرات کو اعتبار بخشے گی، کیونکہ وہ ویسٹ ونگ میں اہم حیثیت رکھتے ہیں اور ٹرمپ ان پر بھروسہ کرتے ہیں کہ وہ امریکی مطالبات واضح طور پر پیش کر سکیں گے۔
ان کی قیادت کی ایک وجہ ایرانی جانب اور ٹرمپ کے ایلچیوں (وٹکوف اور کشنر) کے درمیان تناؤ بھی ہے، جو گذشتہ سال جون اور رواں سال جنوری میں مذاکرات کےدو ادوار کے بعد پیدا ہوا تھا۔
ایرانی وفد 70 سے زائد افراد پر مشتمل ہے جس کی سربراہی قالیباف کر رہے ہیں۔ وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری جنرل محمد باقر ذوالقدر، کونسل برائے دفاع کے سکریٹری جنرل علی اکبر احمدیان اور مرکزی بینک کے سربراہ عبد الناصر ہمتی کے علاوہ پارلیمنٹ کے ارکان اور سیاسی، سکیورٹی، عسکری، معاشی و قانونی کمیٹیوں کے ارکان شامل ہیں۔
ایرانی وفد کے اہم ناموں میں کونسل برائے دفاع کے سکریٹری علی اکبر احمدیان، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے رکن علی باقری کنی، کاظم غریب آبادی اور پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم بھی شامل ہیں۔ایرانی نیوز ایجنسی فارس کے مطابق وفد میں اقتصادی، سکیورٹی اور سیاسی شعبوں کی تکنیکی و ماہرین کی کمیٹیوں کے 26 ارکان، مرکزی مذاکرات کاروں کے ہمراہ 23 میڈیا نمائندے اور پروٹوکول، کوآرڈینیشن و سکیورٹی ٹیمیں بھی شامل ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق دو ہفتوں کی اس غیر مستحکم جنگ بندی کے دوران وہ امن معاہدہ ہونے کا بالکل کوئی امکان نہیں جس سے متعلق صدر ٹرمپ نے پُرامید انداز میں پیش گوئی کی تھی۔
انٹرنیشنل کرائسس گروپ سے منسلک علی واعظ کے خیال میں زیادہ سینیئر حکام کی شمولیت اور تمام فریقوں کے لیے ناکامی کے بڑے خطرات ایسے امکانات پیدا کرسکتے ہیں جو پہلے موجود نہیں تھے۔ان کے مطابق اس بار صورتحال کہیں زیادہ مشکل ہے۔
ایران کے نائب صدر نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں جاری اعلیٰ سطح کی بات چیت کا نتیجہ مکمل طور پر امریکہ کی ترجیحات پر منحصر ہے۔محمد رضا عارف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ اگر امریکہ کے نمائندے اپنے امریکہ فرفسٹ مفادات پر توجہ مرکوز کریں تو باہمی فائدے والا معاہدہ ممکن ہے۔ اگر بات چیت اسرائیل فرسٹ ایجنڈے کی طرف موڑ دی گئی تو کوئی معاہدہ نہیں ہو گا ۔انہوں نے خبردار کیا کہ اس صورتحال میں دنیا پرزیادہ بھاری پڑے گی۔
اسلام آباد میں وینس کا سفارتی مشن سیاسی خطرات سے بھرپور ہے۔یہ اب تک اُن کی نائب صدارت میں انھیں تفویض کی گئی سب سے مشکل ذمہ داری ہے۔ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مستقل معاہدے تک پیش رفت کے لیے انھیں متعدد ایسے فریقوں کو مطمئن کرنا ہو گا جن کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہیں اور جو ایک دوسرے پر بالکل اعتماد نہیں کرتے۔ایک یورپی عہدیدار کے مطابق، امریکہ کے اتحادی جے ڈی وینس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ وہ اسلام آباد میں کیسی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
سی این این کی رپورٹ میں کہا گیاہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں مرکزی کردار بن گئے۔رپورٹ کے مطابق،
وینس نے نجی طورپر اس بات کا خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ جنگ کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہے، اور اس کے آغاز سے ہی اس پر تحفظات رکھتے تھے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کو اس جنگ سے روکنے کی کوشش بھی کی تھی۔تاہم اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس تنازع کے خاتمے کی کوششوں میں تیزی لا رہے ہیں، تو وینس اس عمل میں مرکزی کردار بن کر سامنے آئے ہیں اور انہیں ایک اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
وینس نے پس پردہ کام کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے ثالثوں اور پاکستانی مذاکرات کاروں کے ساتھ بیک چینل رابطے قائم کیے۔ انہوں نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیرسے باقاعدہ رابطہ رکھا۔
وینس امریکہ میں اگلے صدارتی انتخابات کے لیے نامزدگی کے امیدواربھی ہیں۔اسی تناظرمیں سفارتی ماہرین کا کہناہے کہ وینس کو کوئی نتیجہ دینا ہو گا، ورنہ ان کی حیثیت متاثر ہو جائے گی۔