جنگ بندی میں توسیع،مذاکرات کا ممکنہ عبوری نتیجہ

وینس کی شمولیت اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکہ اس معاملے میں سنجیدہ ہے

               
April 11, 2026 · امت خاص

 

اسلام آباد ٹاکس کا حتمی نتیجہ کیا ہوگا،یہ بتانے میں مشکل کے پیش نظربین الاقوامی میڈیا نے عبوری نتیجے کی طرف اشارہ کیا ہے۔

 

عرب میڈیاکے مطابق،امریکی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ مذاکرات کے پہلے دور میں کوئی بامعنی پیش رفت ہو سکے گی یا نہیں، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ محض رسمی ملاقات سے بڑھ کر ہوگا۔ان کے مطابق کسی معاہدے تک پہنچنے میں ہفتوں بلکہ ممکنہ طور پر مہینے لگ سکتے ہیں اور غالب یہی امکان ہے کہ اس کے لیے دو ہفتوں کی جنگ بندی میں توسیع درکار ہوگی۔تاہم ایک امریکی عہدیدار نے زور دے کر کہا کہ جنگ بندی میں توسیع اس وقت تک نہیں ہوگی، جب تک امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جو اپنے ملک کے وفد کی قیادت کر رہے ہیں، پاکستان میںکسی ٹھوس پیش رفت کے ساتھ نہ آئیں۔

 

یہ بات قابل ذکر ہے کہ وینس کی روانگی اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکہ اس معاملے میں سنجیدہ ہے۔دوسری جانب ایرانی وفد جس کی قیادت اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، مذاکرات میں دباؤ ڈالنے کے حربے استعمال کرنے کی تیاری کر رہا ہے، یہ بات ایران سے مذاکرات کا تجربہ رکھنے والے سابق امریکی حکام نے بتائی۔

 

امریکی جرید ے وال سٹریٹ جرنل نےامریکی حکام کے حوالے سے بتایاہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا مسلسل اثر و رسوخ جو توانائی کی ترسیل کا دنیا کا اہم ترین راستہ ہے، ایرانی قیادت کو مذاکرات میں دباؤ کا ایک نیا ذریعہ فراہم کر رہا ہے۔ایرانی جوہری معاہدے پر مذاکرات کرنے والی امریکی ٹیم کے سابق رکن ایلن آئر نے کہاکہ ایران کو شدید فوجی نقصان پہنچا ہے، لیکن اس کے پاس اس وقت آبنائے ہرمز کی شکل میں ایک طرح کاجوہری ہتھیار موجود ہے۔

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس سوائے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر اثر انداز ہونے کے مذاکرات کے لیے کوئی پتے نہیں۔الجزیرہ کے مطابق ،آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کو ایک اہم ترجیح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

 

سابق امریکی سفیر ڈگلس سلیمن نے الجزیرہ کو بتایا کہ ٹرمپ ممکنہ طور پر اقتصادی دباؤ کم کرنے کے لیے مذاکرات میں تیزی سے نتیجہ اخذ کرنے پر زور دیں گے، اس کے علاوہ امریکی منڈیویں میںقیمتیں دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جس سے انتظامیہ پر دباؤ بڑھ رہا ہے کیونکہ داخلی سطح پر معاشی خدشات بڑھ رہے ہیں۔