بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے پاکستان کی بڑھتی سفارتی اہمیت کو اجاگر کیا ہے ، اسلام آباد نے امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کی میزبانی کی اور اس پیش رفت کو علاقائی استحکام کے لیے اہم موڑ قراردیاگیاہے۔
کے ایم ایس کے مطابق رپورٹس میں عالمی رہنمائوں، تجزیہ کاروں اور مبصرین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسلام آباد سفارت کاری کے اہم مرکز کے طور پر ابھرا ہے، اعلیٰ سطح کے مذاکرات کو خطے کو تنازعات سے نکالنے اور پرامن بات چیت کی طرف لے جانے کی کوشش قراردیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مذاکرات نے پاکستان کو بین الاقوامی توجہ کے مرکز میں رکھا ہے، کئی میڈیا اداروں نے ایک قابل اعتماد سہولت کار کے طور پر اس کے کردار کو تسلیم کیا ہے جو حریف فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے کہا کہ پاکستان کی فعال سفارت کاری نے ایک نازک موڑ پر کشیدگی کو کم کرنے میں مددکی جس سے بڑھتے غیر مستحکم جغرافیائی سیاسی ماحول میں ایک مستحکم قوت کے طور پر اس کی ساکھ کو تقویت ملی ۔رپورٹس میں کہاگیا ہے کہ قیام امن اور تنازعات کے حل میں پاکستان کے بڑھتے کردار کا بڑے پیمانے پر اعتراف کیا جا رہا ہے، اس کی سفارتکاری کو بات چیت کو فروغ دینے اور کشیدگی کو روکنے کی کوشش قراردیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف اس پیشرفت نے نئی دہلی میں تشویش پیدا کی ہے جہاں مبصرین پاکستان کے بڑھتے سفارتی پروفائل کو بھارت کی علاقائی پوزیشن کے لیے چیلنج کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین نے اسلام آباد کی سفارتکاری اور نریندر مودی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کی پالیسیوں میں فرق کو واضح کیاہے، کچھ رپورٹس میں جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں کے دوران نئی دہلی کے موقف پر سوالیہ نشان لگایاگیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے میں پاکستان کے کردارسے نہ صرف مغربی ایشیا بلکہ وسیع تر بین الاقوامی نظام پر بھی دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت سے امن کے لیے ایک پل کے طور پر پاکستان کے کردار کو تقویت ملے گی اور اس کی سفارتی کوششیں خطے کے ساتھ ساتھ عالمی استحکام میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔