طویل اور تھکادینے والی سفارتی رات کا وہ لمحہ جب مذاکرات کامیاب ہوتے نظر آنے لگے
مجموعی تاثر دیکھا جائے تو ’’اسلام آبادٹاکس‘‘ ناکام کم اور ادھورے زیادہ لگتے ہیں
اسلام آباد کی طویل اور تھکا دینے والی سفارتی رات، جہاں ایک وقت ایسا بھی آیا جب لگا کہ تاریخ بدلنے والی ہےلیکن پھر سب کچھ رک گیا۔
یہ مذاکرات محض رسمی ملاقات نہیں تھے، بلکہ تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہنے والی مسلسل اور دباؤ سے بھرپور بات چیت تھی۔ امریکی وفد، نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں، ایک واضح ہدف لے کر آیا تھا: ایران کو اس کے جوہری پروگرام پر مکمل طور پر پیچھے ہٹنے کے لیے آمادہ کرنا۔
مذاکرات کے دوران ایک اہم موڑ آیا۔ ابتدائی سختی، بداعتمادی اور محتاط جملوں کے بعد ماحول بدلنا شروع ہوا۔ دونوں فریق ایک دوسرے کو بہتر سمجھنے لگے، سختی میں نرمی آئی، اور کمرے میں ایک غیر معمولی خیر سگالی پیدا ہوئی۔
ایک وقت ایسا آیا جب امریکی ٹیم کو لگا کہ اب شاید معاہدہ ہو جائے گا۔ بات چیت دوستانہ ہو چکی تھی، غلط فہمیاں کافی حد تک دور ہو چکی تھیں، اور دونوں اطراف سننے کے لیے تیار دکھائی دے رہے تھے۔ یہی تاثر بعد میں صدر ٹرمپ نے بھی دیا کہ مذاکرات بہت دوستانہ ہوگئے تھے۔
لیکن امریکہ کی “فائنل اینڈ بیسٹ آفر” بہت سادہ مگر سخت تھی: ایران یورینیم افزودگی مکمل طور پر ترک کرے، حتیٰ کہ وہ صلاحیت بھی ختم کرے جو سول مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہے، اور اپنا افزودہ مواد حوالے کرے۔ ایران یہاں رک گیا۔ اس کا مؤقف تھا کہ وہ مکمل طور پر جوہری صلاحیت چھوڑنے کو تیار نہیں، اور اسے امید تھی کہ امریکہ کچھ نرمی دکھائے گا۔ یہی وہ نقطہ تھا جہاں دوستانہ ماحول ہونے کے باوجود مذاکرات رک گئے۔
اسلام آباد سے روانگی سے پہلے وینس نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم ایک سادہ فریم ورک دے کر جا رہے ہیں، یہ ہماری آخری اور بہترین پیشکش ہے۔
مذاکرات کے دوران ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آیا۔ امریکی ٹیم کو محسوس ہوا کہ ایران خود کو زیادہ مضبوط پوزیشن میں سمجھ رہا ہے اور اسے یقین ہے کہ وہ امریکہ پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اندازہ زمینی حقیقت سے پوری طرح میل نہیں کھاتا۔
اسی سوچ کو جانچنے کے لیے ٹرمپ نے ایک سخت قدم اٹھایا اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کیا۔ یہ دراصل ایک ٹیسٹ ہے کہ آیا ایران واقعی دباؤ برداشت کر سکتا ہے یا وہ دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئے گا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی واپس آئیں گے اور وہ سب کچھ مان لیں گے جو امریکہ چاہتا ہے۔
اگر ’’ اسلام آبادٹاکس‘‘ کا مجموعی تاثر دیکھا جائے تو یہ مذاکرات ناکام کم اور ادھورے زیادہ لگتے ہیں۔ ماحول دشمنی سے دوستی کی طرف آیا، ایک موقع پر معاہدہ قریب نظر آیا، مگر ایک بنیادی اختلاف نے سب کچھ روک دیا۔