امریکہ آبنائے ہرمزکی ناکہ بندی کیسے کرے گا؟
تاحال اس ممکنہ آپریشن کی کوئی تفصیلی حکمت عملی جاری نہیں کی گئی
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ رہنے کے بعد صدر ڈونلڈٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمزمیں ناکہ بندی کی دھمکی نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، لیکن عملی طور پر یہ ناکہ بندی کیسے ہوگی، اس حوالے سے ابھی تک کئی اہم سوالات کے جواب سامنے نہیں آئے۔
امریکی فوج نے تاحال اس ممکنہ آپریشن کی کوئی تفصیلی حکمت عملی جاری نہیں کی۔ یہ واضح نہیں کہ اس میں کتنے جنگی بحری جہاز شامل ہوں گے، آیا جنگی طیارے استعمال کیے جائیں گے یا نہیں، اور خلیجی اتحادی اس کارروائی میں کس حد تک حصہ لیں گے۔ اس ابہام نے دفاعی ماہرین کو مختلف امکانات پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، امریکہ کی جانب سے تیل بردار جہازوں پر براہ راست میزائل حملے یا بھاری ہتھیاروں کا استعمال انتہائی غیر متوقع ہے، کیونکہ اس سے بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تباہی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، خاص طور پر سمندری آلودگی کی صورت میں۔ اس کے بجائے زیادہ امکان یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی بحریہ پہلے مرحلے میں جہازوں کو وارننگ دے کر راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کرے گی۔ اگر کوئی جہاز ہدایات پر عمل نہ کرے تو اس پر مسلح اہلکاروں کے ذریعے کنٹرول حاصل کیا جا سکتا ہے۔
امریکی بحریہ کے طریقہ کار سے متعلق 2022 کی ہینڈ بک کے مطابق، ناکہ بندی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دشمن کے زیر اثر بندرگاہوں، ساحلی علاقوں یا فضائی اڈوں کی طرف جانے یا وہاں سے آنے والی ہر قسم کی بحری نقل و حرکت کو روکا جائے۔ اس عمل میں تجارتی جہاز رانی کو پیشگی نوٹس دینا بھی شامل ہوتا ہے تاکہ وہ اپنی حکمت عملی تبدیل کر سکیں۔
اسی تناظر میں سینٹ کام کی جانب سے عندیہ دیا گیا ہے کہ اگر ناکہ بندی کا فیصلہ کیا گیا تو تجارتی شپنگ کمپنیوں کو باضابطہ نوٹس جاری کیا جائے گا، جس میں راستوں، پابندیوں اور حفاظتی اقدامات سے متعلق تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔تاہم اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانا آسان نہیں سمجھا جا رہا۔ ایک سابق پینٹاگون اہلکار کے مطابق، اس نوعیت کی کارروائی کو اکیلے انجام دینا نہایت مشکل ہے، جبکہ درمیانی یا طویل مدت تک اسے برقرار رکھنا مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے نہ صرف وسیع بحری وسائل درکار ہوں گے بلکہ علاقائی اتحادیوں کی حمایت بھی اہم ہوگی۔
امریکی سیاست میں بھی اس معاملے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے ڈیموکریٹ رکن مارک وارنر نے اس اقدام پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ ایسی ناکہ بندی ایران کو کس طرح اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرے گی۔
دفاعی اور سیاسی ماہرین مجموعی طور پر اس صورتحال کو ایک بڑا جوا قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق، اگر یہ حکمت عملی ناکام رہی یا اس کے غیر متوقع نتائج سامنے آئے تو اس کے سیاسی اثرات بھی ہو سکتے ہیں، خاص طور پر آئندہ انتخابات میں صدر ٹرمپ کی جماعت کو اس کی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔
ناکہ بندی کی دھمکی کے عملی خدوخال، عسکری حکمت عملی اور ممکنہ نتائج ابھی تک غیر یقینی کا شکار ہیں۔