جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے دوبارہ مذاکرات کیلیے پاکستان کے ایران اور امریکہ سے رابطے
روس نے ایرانی یورینیم اپنے قبضے میں رکھنے کی پیشکش کردی
فوٹو سوشل میڈیا
اسلام آباد: امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے ذرائع ابلاغ نے پیر کے روز کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ مذاکرات کرانے کا خواہشمند ہے اور اس حوالے سے اس نے رابطے کیے ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی اس حوالے سے اشارہ دیا ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے 9 دن باقی ہیں۔
دوبارہ مذاکرات کے امکان کی سب سے پہلی خبر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دی۔ اس کے بعد عرب ٹی وی الجزیرہ نے بھی یہی امکان ظاہر کیا۔ کچھ دیر بعد عرب نیوز نے ایک پاکستانی عہدیدار کے حوالے سے کہا کہ مذاکرات کی ایک اور کوشش کی جائے گی اور یہ کہ پاکستان ایران اور امریکہ دونوں سے رابطے میں ہے۔
سینئر پاکستانی صحافی انصار عباسی نے بھی بریکنگ نیوز کے طور پر یہی خبر دی۔ان خبروں کو اس وقت تقویت ملی جب جاپانی وزیراعظم نے پاکستانی ہم منصب شہباز شریف سے رابطہ کیا اور بات چیت کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ کشیدگی کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت کی طرف بڑھنا ضروری ہے کہ تاکہ ایک حتمی معاہدہ ہو سکے۔
یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہفتے کی سہ پہر سے لے کر اتوار کی صبح تک جاری رہنے والے مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوئے تھے۔ امریکی نائب صدر ڈی جے وینس کا کہنا تھا کہ مذاکرات ایرانی ایٹمی پروگرام پر اختلافات کی وجہ سے ناکام ہوئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ایران کو ایک پیشکش دے کر جا رہے ہیں۔
امریکی میڈیا اور حکام کے مطابق امریکہ کا مطالبہ تھا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے حوالے سے اپنے پاس موجود تمام آلات ختم کردے اور اپنے پاس موجودہ افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کردے۔ دوسری جانب ایرانیوں کا کہنا ہے کہ امریکہ نے جنگ مسلط کرکے جو کچھ حاصل کرنے کی کوشش کی اور ناکام رہا وہی کچھ وہ مذاکرات میں مانگ رہا ہے۔
تاہم اس حوالے سے امید کی ایک کرن پیر کو پیدا ہوئی جب روس نے پیشکش کی کہ وہ ایران کی افزودہ یورینیم اپنی تحویل میں رکھنے کے لیے تیار ہے۔ یاد رہے کہ ایران کے پاس 460 کلوگرام افزدہ یورینیم موجود ہے۔ یہ یورینیم اتنی زیادہ افزودہ تو نہیں کہ اس سے فوری طور پر ایٹم بم تیار کیا جا سکے تاہم یہ 60 فیصد تک افزودہ کی جا چکی ہے۔