یوگنڈا کا ‘باؤلا’آرمی چیف اپنے بیانات کی وجہ سے عالمی مذاق بن گیا
نیروبی پر قبضے کی دھمکی سے ترکیہ کو الٹی میٹم تک، موہوزی کائنیروگابا کے متنازع ترین دعوے
فائل فوٹو
یوگنڈا کے آرمی چیف اپنے ایک احمقانہ مطالبے کے سبب ان دنوں پاکستان اور بھارت کے ذرائع ابلاغ پر چھائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے جو بات کہی وہ ان دونوں ملکوں میں ہی خبر بن سکتی ہے۔
موہوزی کائ نیروگابا نے ترکیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یوگنڈا کو ایک ارب ڈالر تھے اور ترکیہ کی سب سے خوبصورت خاتون شادی کے لیے ان کے حوالے کرے۔
یہ احمقانہ مطالبہ تو ہے ہی لیکن اس بیان کو سنجیدہ کوریج دینے والے پاکستان اور بھارت کے صحافیوں پر بھی سوالات اٹھتے ہیں کیونکہ یوگنڈا کے یہ صاحب پہلے بھی ایسے بیانات دے چکے ہیں۔
کچھ ہفتے پہلے ہی موہوزی کائنیروگابا نے اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل کے شہر تل ابیب کا تحفظ کرنے کیلئے ایک لاکھ فوجی تعینات کرنے کو تیار ہیں۔اس کے بعد انہوں ںے ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ وہ پاکستان سمیت ایٹمی طاقت رکھنے والے ملکوں سے ڈرتے ہیں۔
موہوزی کائنیروگابا دراصل یوگنڈا کےصدر کے بیٹے ہیں اور اسی وجہ سے انہیں مسلح افواج کی سربراہی دی گئی ہے۔
لیکن ان کا دیوانہ پن اپنی جگہ برقرار ہے۔ 2022 میں انہوں نے کینیا کے دارالحکومت نیروبی پر قبضے کی دھمکی دی جس کے بعد انہیں کچھ عرصے کے لیے فوج کی سربراہی سے ہٹا دیا گیا۔بعد میں کائینیروگابا نے کہا کہ انہوں نے مذاق کیا تھا۔
یوگنڈا کے آرمی چیف کے ترکیہ سے حالیہ بے ہودہ مطالبے کو بھی کسی نے سنجیدگی سے نہیں کیا۔ ترکیہ میں اس کا مذاق اڑایا گیا۔
کائنیروگابا نے ترکی کو یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر ان کے مطالبات 30 دن میں پورے نہ ہوئے تو وہ یوگنڈا میں ترک سفارتخانہ بند کر دیں گے۔ ترک سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ ہمت کرو۔
سوشل میڈیا پر ترکوں کے ہاتھوں رسوائی کے بعد کائنیروگابا نے اپنی ٹوئیٹس ڈیلیٹ کر دیں۔
یوگنڈا کے آرمی چیف ایرانیوں کے ہاتھوں بھی بے عزت ہوچکے ہیں۔ چند روز قبل انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران جلد جلد از جلد امریکہ سے معاہدہ کرتے، اس پر جنوبی افریقہ میں ایرانی سفارتخانے نے لکھا، ’ہمیں بچاؤ، یہ پھر آگیا ہے۔‘
ترک وزارت خارجہ نے اس پورے معاملے پر کوئی بیان نہیں دیا۔بہر حال پاکستان اور بھارت کے صحافیوں کیلئے یہ ایک خبر ہے آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔