شہریوں کے پاسپورٹ غیرفعال قرار دینے کا حکومتی اختیاربحال
وفاقی آئینی عدالت میں لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل ۔حکومتی اپیل قابل سماعت قرار
پاسپورٹ امیگریشن رولز کی کالعدم دفعات بحال کر دی گئی ہیں، حکومت کو شہریوں کے پاسپورٹ غیرفعال قرار دینے کا اختیار مل گیا۔وفاقی آئینی عدالت نے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کی کالعدم دفعات کو بحال کردیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے حکومتی اپیل قابل سماعت قرار دے دی۔دفعات بحالی سے شہریوں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا حکومتی اختیار بھی بحال کردیا، عدالت نےشہریوں کے پاسپورٹ غیرفعال قرار دینے کا حکومتی اختیار بھی بحال کردیا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے فریقین کو نوٹس جاری کردیا اور استفسار کیا کہ کیا یہ ڈنکی لگا کر جانے والوں کا کیس ہے؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ فرحان علی نامی شہری غیرقانونی طور پر ایران گیا جہاں سے ڈی پورٹ ہوا، غیر قانونی اقدامات پر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کیا گیا، پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام کی شمولیت اورپاسپورٹ غیرفعال ہونا چیلنج کیا گیا۔
جسٹس حسن اظہر نے پوچھاکہ شہری خود باہر جانے والا تھا یا لوگوں سے پیسہ لےکر اٹلی بھیجتا تھا؟ ایف آئی اے نے اب تک کیا تفتیش کی؟عامر رحمان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ایف آئی اے سے معلومات تاحال نہیں لیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کے رول 3 اور 10 کالعدم قرار دے دیے۔وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی۔