امریکی جنگ بندی تجویز پر ایران کاغور جاری۔اختلافات اور امیدیں بھی برقرار

آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باوجود ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی کوششیں جاری ہیں

May 9, 2026 · امت خاص

ایران کی خبر رساں ایجنسی آئی ایس این اے سے حاصل کی گئی اس تصویر میں جنوبی ایران کے شہر بندر عباس کے قریب آبنائے ہرمز میں بحری جہاز لنگر انداز دکھائے گئے ہیں۔

 

ایران نے امریکہ کی تازہ جنگ بندی تجویز کا باضابطہ جواب نہیں دیا، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اختلافات اب بھی نمایاں ہیں جبکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی جاری ہے۔

ایران نے امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی اور امن منصوبے پر غور جاری رکھا ہوا ہے، تاہم ابھی تک تہران کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایران کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو مزید سخت فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

امریکہ نے ایران کو ایک 14 نکاتی تجویز دی ہے جس کے تحت ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے، یورینیم افزودگی کم از کم 12 سال کے لیے بند کرنے اور اپنے افزودہ یورینیم کے بڑے ذخیرے کو حوالے کرنے کا کہا گیا ہے۔اس کے بدلے میں امریکہ نے بتدریج پابندیاں ہٹانے، منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ دونوں ممالک آبنائے ہرمز کے حساس آبی راستے کو دوبارہ کھولنے پر بھی بات کر رہے ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کے رکن ابراہیم رضائی نے اس تجویز کو “امریکی خواہشات کی فہرست” قرار دیا ہے،  اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں کہا کہ “آپریشن ٹرسٹ می برو ناکام ہو گیا ہے”۔

رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں دونوں ممالک کے درمیان بحری جھڑپوں اور حملوں کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔ امریکہ نے ایرانی حملوں کا جواب دیتے ہوئے بعض فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایران نے بھی امریکی کارروائیوں کی تصدیق کی ہے۔

تاہم ان کشیدگیوں کے باوجود کسی بھی فریق نے جنگ بندی کے مکمل خاتمے کا اعلان نہیں کیا۔ ایران کی وزارت خارجہ کے مطابق تجویز کا جائزہ ابھی جاری ہے اور سفارتی رابطے برقرار ہیں۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اختلافات اب بھی گہرے ہیں، لیکن مذاکراتی عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور سفارتی کوششیں جاری رہنے کا امکان ہے۔