پردیسی عید پر آبائی شہروں کو کیوں نہیں جارہے؟

ٹرمینلز پر مسافروں کی آمد و رفت غیر معمولی طور پر کم ہے

May 25, 2026 · امت خاص

 

بڑھتی مہنگائی، ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ اور قربانی کے جانوروں کی آسمان چھوتی قیمتوں نے راولپنڈی اور اسلام آباد کے جڑواں شہروں کے بڑی تعداد میں رہائشیوں کو رواں سال اپنے آبائی علاقوںکو جانے کے بجائے راولپنڈی اور اسلام آباد میں ہی عیدالاضحیٰ منانے پر مجبور کر دیا ہے۔

عید کی چھٹیوں سے قبل جڑواں شہروں کے 54 ٹرانسپورٹ ٹرمینلز پر مسافروں کی آمد و رفت غیر معمولی طور پر کم اوربس اڈوں پر روایتی چہل پہل بالکل غائب ہے۔

عیدالاضحی پر مسافروں کی تعداد 40 سے 45 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔ پہلے پوری پوری فیملی اپنے آبائی گاؤں جاتی تھی، لیکن اس سال صرف ایک یا دو افراد ہی سفر کر رہے ہیں۔

سکولوں میں موسم گرما کی طویل چھٹیوںکے باوجود آبائی شہروں کو جانے والے مسافروں کی تعداد میں کوئی قابلِ ذکر اضافہ نہیں ہوا۔مسافروں کی کمی کے باعث پاکستان ریلویز نے بھی آٹھ ٹرینوں کے آپریشن کو معطل کر دیا ہے، ریلوے اسٹیشنز پربھی ویرانی چھائی ہوئی ہے۔

عیدالاضحیٰ سے صرف دو دن پہلے ابھی تک یہ دیکھنا باقی ہے کہ مسافروں کی تعداد بڑھتی ہے یا نہیں، تاہم امکانات کم ہی نظر آتے ہیں۔ جو لوگ سفر کرنا چاہتے تھے وہ پہلے ہی نکل چکے ہیں کیونکہ اگلے ہفتے بھی تعطیلات جاری رہیں گی۔

ذرائع کا بتاناہے کہ قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت میں بھی اس سال 40 سے 45 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ ٹرانسپورٹرز کے مطابق ٹرانسپورٹ کرایوں میں اچانک اضافے کی بنیادی وجہ پچھلے کچھ مہینوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 50 سے 70 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں صرف 5 روپے کی معمولی کمی کا کوئی خاص اثر نہیں پڑا، کیونکہ گاڑیوں کے اسپیئر پارٹس، ٹائروں اور ڈرائیور، کنڈکٹر اور ہیلپرز کی تنخواہوں میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

مسافروں نے شکایت کی کہ ٹرانسپورٹرز اب 10 سال کے بچوں سے بھی مکمل سیٹ کا کرایہ وصول کر رہے ہیں، جسے وہ استحصال قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ سامان کے لیے الگ سے مکمل سیٹ کا کرایہ مانگا جا رہا ہے۔عام شہریوں نے کہا کہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہ ہونے اور مسلسل مہنگائی نے گھریلو بجٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) کے سیکریٹری نے بتایا کہ عیدالاضحیٰ تک مانیٹرنگ ٹیمیں ٹرانسپورٹ ٹرمینلز کا معائنہ جاری رکھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اوور چارجنگ اور اوور لوڈنگ کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف چالان اور جرمانے عائد کیے جا چکے ہیں۔