11 کمپنیوں کی تیار کردہ 17 آٹو ڈس ایبل سرنجز کو غیر معیاری قرار، فروخت پر فوری پابندی

3 سے 5 ملی لیٹر کی یہ سرنجز آٹو ڈس ایبلیٹی ٹیسٹ میں ناکام رہیں، ڈریپ

May 25, 2026 · قومی, ہیلتھ
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان ( ڈریپ) نے صحتِ عامہ کے تحفظ کے لیے اہم کارروائی کرتے ہوئے 11 کمپنیوں کی تیار کردہ 17 آٹو ڈس ایبل سرنجز کو غیر معیاری قرار دے کر ملک بھر میں ان کی فروخت اور استعمال پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔

ڈریپ کی جانب سے جاری کردہ  میڈیکل پراڈکٹ الرٹ میں بتایا گیا ہے کہ سینٹرل ڈرگ لیبارٹری اور ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کراچی کی جانچ کے بعد ان سرنجز کے سیمپلز معیار پر پورا نہیں اترے۔3 سے 5 ملی لیٹر کی یہ سرنجز آٹو ڈس ایبلیٹی ٹیسٹ میں ناکام رہیں، جس کا مطلب ہے کہ استعمال کے بعد ان کے دوبارہ استعمال کا خدشہ موجود ہے۔

غیر معیاری قرار دی گئی سرنجز میں پنجاب، خیبرپختونخوا اور چین سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کی مصنوعات شامل ہیں، جبکہ دو چینی کمپنیوں کے تیار کردہ تین بیجز بھی متاثرہ فہرست میں شامل ہیں۔

اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ ان سرنجز کا دوبارہ استعمال ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی اور ایچ آئی وی جیسے خطرناک امراض کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے، جو صحتِ عامہ کے لیے سنگین خطرہ ہے۔تمام صوبائی حکومتوں، متعلقہ محکموں اور فیلڈ فورس کو ہدایت جاری کی ہے کہ مارکیٹ میں موجود متاثرہ بیجز کی فوری نشاندہی کر کے انہیں ضبط کیا جائے۔ساتھ ہی مینوفیکچررز، امپورٹرز اور ڈسٹری بیوٹرز کو بھی حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان سرنجز کی سپلائی فوری طور پر روکیں اور مارکیٹ سے تمام متاثرہ بیجز واپس منگوائیں۔

ڈریپ کا کہنا ہے کہ غیر معیاری آٹو ڈس ایبل سرنجز کے مکمل خاتمے کے لیے ملک بھر میں سخت نگرانی اور کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔