پاکستان دوبارہ حملے کی جرات نہ کرے، افغانستان دفاعی صلاحیت بڑھا رہا ہے:ملا یعقوب

ماضی میں افغانستان پر فضائی حملوں کے واقعات پیش آئے، تاہم حکومت ایسی صلاحیت حاصل کرنا چاہتی ہے

May 30, 2026 · اہم خبریں
پاکستان دوبارہ حملے کی جرات نہ کرے، افغانستان دفاعی صلاحیت بڑھا رہا ہے:ملا یعقوب

پاکستان دوبارہ حملے کی جرات نہ کرے، افغانستان دفاعی صلاحیت بڑھا رہا ہے:ملا یعقوب

افغانستان کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد نے روس کے دورے کے بعد کہا ہے کہ ان کی حکومت ملک کے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعاون بڑھا رہی ہے تاکہ مستقبل میں افغانستان کی فضائی حدود کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

کابل ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں افغانستان پر فضائی حملوں کے واقعات پیش آئے، تاہم حکومت ایسی صلاحیت حاصل کرنا چاہتی ہے جس سے ملکی خودمختاری اور فضائی دفاع کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

ملا محمد یعقوب نے روس کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی دفاعی یا سکیورٹی اتحاد نہیں بلکہ فوجی تکنیکی تعاون کا معاہدہ ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے کا مقصد افغانستان کے پاس موجود روسی ساختہ ہیلی کاپٹروں، ہتھیاروں اور دیگر فوجی سازوسامان کی مرمت، دیکھ بھال اور بہتر استعمال کو یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں موجود فوجی ٹیکنالوجی کا بڑا حصہ روسی ساختہ ہے، اس لیے ان آلات کی بحالی اور اپ گریڈیشن کے لیے متعلقہ ممالک کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔ فضائی دفاعی نظام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اس بارے میں مزید مشاورت اور فیصلے کیے جائیں گے۔

روسی دارالحکومت ماسکو میں ہونے والے بین الاقوامی سکیورٹی فورم کے دوران افغان وفد نے روسی حکام سے ملاقاتیں بھی کیں۔ دونوں فریقین نے باہمی تعلقات، علاقائی سلامتی اور فوجی تکنیکی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔

روس ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی کابل میں سفارتی موجودگی برقرار رکھی۔ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ چند برسوں میں اقتصادی اور سکیورٹی تعاون میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

افغان وزیر دفاع نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی حکومت کسی بھی گروہ کو افغانستان کی سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی اور علاقائی استحکام کے لیے تعاون جاری رکھا جائے گا۔

یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان گزشتہ چند ماہ کے دوران سرحدی کشیدگی اور سکیورٹی معاملات پر اختلافات سامنے آئے تھے، تاہم حالیہ عرصے میں دونوں جانب سے بڑے فوجی تصادم کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔