پیپلز پارٹی نے بھی فارم 47 والا بیانیہ اپنا لیا۔گلگت میں شفاف الیکشن کا مطالبہ

شگر جلسے میں فارم 45، حقِ حاکمیت اور انتخابات پر گفتگو

June 1, 2026 · قومی

سکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پچھلی بار میری 9 سیٹوں کو چوری کیا گیا، امید ہے اس بار ہماری کوئی سیٹ چوری نہیں ہوگی۔

شگر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج بھی ہمارا مطالبہ ہے کہ گلگت بلتستان میں صاف و شفاف انتخابات ہوں۔ انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ آپ کو فارم 45 ہاتھ میں لے کر واپس جانا ہے، آپ نے میرا ساتھ دینا ہے جبکہ فارم 47 کا بندوبست میں خود کروں گا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا منشور گلگت بلتستان کے عوام کو ان کا حق دلوانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو حقِ حاکمیت ملنا چاہیے اور جب گلگت بلتستان اور پاکستان کے انتخابات ایک ساتھ ہوں گے تو صحیح معنوں میں حقِ حاکمیت یقینی ہوگی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات اسی وقت ہوں جب پاکستان میں عام انتخابات منعقد ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آج شگر کے عوام کے پاس واپس آئے ہیں اور تین نسلوں سے گلگت بلتستان کے عوام پیپلز پارٹی کا ساتھ دیتے آ رہے ہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ جو عناصر انہیں مٹانا چاہتے تھے، یہاں کے عوام کی وجہ سے ان کی تمام سازشیں ناکام ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار بھٹو نے سب سے پہلے عوام کے لیے جدوجہد کی اور انہیں حقوق دلوائے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے پہلا متفقہ آئین دلوایا، عوام نے قائدِ عوام کا ساتھ دیا اور قائدِ عوام نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا جبکہ گلگت بلتستان کے کمزور عوام کا بھی ساتھ دیا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پسماندہ طبقات کی نمائندگی کی اور پاکستان آج ایٹمی قوت بن کر دنیا کے سامنے مضبوطی سے کھڑا ہے۔ ان کے بقول قائدِ عوام نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے پر عمل بھی کیا تھا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ ایک بار پھر عوام کی حمایت حاصل کرنے آئے ہیں اور پیپلز پارٹی کو کبھی عوام کی جانب سے مایوسی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ مرتبہ ان کا پُرجوش استقبال کیا گیا تھا اور وہ پوری پی ڈی ایم کو ناراض کرکے بھی عوام کے پاس آئے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر شگر کے عوام کو اختیار دیا جائے تو وہ معاشی طور پر ترقی کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد والے سمجھتے ہیں کہ ہر چیز ان کی ہے، جو کام 90 کی دہائی میں ہونا چاہیے تھا وہ 2015 میں شروع کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تھرکول واحد منصوبہ ہے جہاں اختیار صوبے کے وزیر اعلیٰ کے پاس ہے، جس سے پہلے تھرپارکر کے عوام، پھر سندھ اور بعد ازاں پورے پاکستان کو فائدہ پہنچا۔