وفاقی بجٹ میں سابقہ فاٹا کیلئے رعایتیں ختم، صنعتوں کو بڑا دھچکا

اس اقدام کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، محصولات میں اضافہ اور مختلف شعبوں کے درمیان موجود مالیاتی عدم توازن کو کم کرنا ہے۔

June 2, 2026 · قومی

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 30 جون 2026 کے بعد متعدد ٹیکس استثنیٰ اور رعایتوں میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں یکم جولائی 2026 سے مختلف شعبے، مصنوعات اور علاقے باقاعدہ ٹیکس نظام کے دائرے میں آ جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق حکومت آئندہ مالی سال میں انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کی کئی رعایتیں ختم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، محصولات میں اضافہ اور مختلف شعبوں کے درمیان موجود مالیاتی عدم توازن کو کم کرنا ہے۔

حکومتی منصوبے کے تحت سابق قبائلی علاقوں (فاٹا اور پاٹا) کے لیے دی گئی بعض خصوصی ٹیکس چھوٹ بھی مرحلہ وار ختم کی جائے گی۔ ان علاقوں میں قائم صنعتی یونٹس کی درآمدات اور سپلائیز پر سیلز ٹیکس کی شرح آئندہ مالی سال کے دوران 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کر دی جائے گی۔

حکام کا مؤقف ہے کہ خصوصی رعایتوں کے باعث بعض صنعتی شعبوں میں مسابقتی عدم توازن پیدا ہو رہا تھا، جسے دور کرنے کے لیے ٹیکس پالیسی میں تبدیلی ضروری سمجھی گئی ہے۔

اسی طرح بعض انکم ٹیکس استثنیٰ، جو قبائلی علاقوں کے رہائشی افراد اور کاروباری اداروں کو حاصل تھے، 30 جون 2026 کو ختم ہو جائیں گے اور ان میں مزید توسیع کا امکان نہیں ہے۔

دوسری جانب الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کے شعبے کو بھی ٹیکس مراعات میں تبدیلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مقامی سطح پر تیار یا اسمبل کی جانے والی بعض الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں پر دی گئی خصوصی سیلز ٹیکس رعایتیں مقررہ مدت کے بعد ختم ہونے والی ہیں، جس سے اس شعبے کے لیے لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق حکومت کے یہ اقدامات محصولات بڑھانے اور مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں، تاہم صنعت اور کاروباری حلقے ان فیصلوں کے ممکنہ معاشی اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

مجوزہ تبدیلیوں کی حتمی منظوری آئندہ وفاقی بجٹ اور متعلقہ مالیاتی قوانین کے نفاذ کے بعد عمل میں آئے گی۔