چمن: محمود خان اچکزئی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج
یہ مقدمہ عبدالولی غیبزئی نامی شہری کی مدعیت میں چمن میں محمود خان اچکزئی کے جلسے میں ایک خطاب کی بنیاد پر درج کیا گیا۔
فائل فوٹو
چمن : قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کے خلاف بغاوت اور لوگوں کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
یہ مقدمہ عبدالولی غیبزئی نامی شہری کی مدعیت میں چمن میں محمود خان اچکزئی کے جلسے میں ایک خطاب کی بنیاد پر درج کیا گیا ہے۔
یہ جلسہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی جانب سے عید کے تیسرے روز چمن شہر میں منعقد کیا گیا تھا۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سیکریٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال نے اس مقدمے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانونی چارہ جوئی اور پرامن جدوجہد کے ذریعے اس ہتھکنڈے کو ناکام بنایا جائے گا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق اپنے خطاب میں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آئے روز بلوچستان میں گاڑیوں کو نذرآتش کیا جارہا ہے اور صوبائی حکومت عوام کو مکمل طور پر تحفظ دینے میں ناکام ہوچکی ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق ’محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہمارے اوپر فارم 47 کے جعلی حکمران مسلط ہیں۔‘
ایف آئی آر کے متن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ محمود خان اچکزئی نے مختلف قبائل سے افراد لے کر ایک متبادل آرمی بنانے کی تجویز پیش کی۔
مدعی نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ محمود خان اچکزئی نے پاکستانی اداروں اور عوام کے درمیان شدید نفرت اور اشتعال انگیزی پھیلانے کی کوشش کی۔