آل پارٹیز کانفرنس: انتخابات بروقت کروانے اور مہاجرین کی سیٹوں سے متعلق آئینی اصلاحات اسمبلی پر چھوڑنے کی قرارداد منظور

جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت نہیں کی ۔

June 3, 2026 · اہم خبریں, قومی

مظفرآباد: آل پارٹیز کانفرنس میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں آئندہ انتخابات، کشمیری مہاجرین کی نشستوں، آئینی اصلاحات اور مسئلہ کشمیر سے متعلق متعدد نکات شامل ہیں۔

وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی زیرِ صدارت وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شرکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جاری جمہوری اور آئینی عمل کو ریاستی استحکام کی بنیاد قرار دیا گیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ جمہوری اداروں کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات آئین اور قانون کے مطابق مقررہ وقت پر منعقد کیے جائیں گے جبکہ شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ انتخابات کے آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور پرامن انعقاد کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے اور انتخابی عمل میں مداخلت کی کسی بھی کوشش کا قانونی طور پر سدباب کیا جائے گا۔

مہاجرین کی 12 نشستوں کے حوالے سے قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان میں مقیم مہاجرین کی نمائندگی ایک تاریخی اور آئینی حقیقت ہے، تاہم انتخابی نظام سے متعلق بعض پیچیدگیوں کے حل کے لیے آئین کے مطابق ہی قانون سازی کی جا سکتی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ آئینی ترمیم کا اختیار منتخب نمائندوں اور قانون ساز اسمبلی کے پاس ہے۔ اجلاس میں سفارش کی گئی کہ کسی بھی ممکنہ آئینی تبدیلی سے قبل سیاسی جماعتوں، وکلا تنظیموں، سول سوسائٹی اور آئینی ماہرین سے مشاورت پر مبنی ایک وسیع عمل شروع کیا جائے۔

اعلامیے میں برداشت، مکالمے اور پرامن سیاسی جدوجہد کے فروغ کو خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ آل پارٹیز کانفرنس میں آزاد کشمیر کے موجودہ وزیراعظم، 4 سابق وزرائے اعظم، قانون ساز اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر اور مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سربراہان یا اُن کے نمائندے نے شرکت کی جبکہ جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اس آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سے انکار کیا تھا۔