پاکستان کی امریکہ کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات کے تبادلے کی تردید

اسحاق ڈار کی امریکی ہم منصب سے ملاقات میں علاقائی امن، استحکام اور جاری چیلنجوں کے سفارتی حل کی اہمیت پر توجہ مرکوز کی گئی ، ترجمان دفتر خارجہ

June 4, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خفیہ معلومات امریکہ سے شیئر کرنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔

جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ پاکستان ان رپورتس کو سختی سے مسترد کرتا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 29 مئی کو امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات کا تبادلہ کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان مشرق وسطی تنازع کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے اور اسحاق ڈار کے دورہ امریکہ کے دوران بھی امریکی حکام سے اس معاملے میں تبادلہ خیال ہوا۔

طاہر اندرابی کا مزید کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کی امریکی ہم منصب سے ملاقات میں علاقائی امن، استحکام اور جاری چیلنجوں کے سفارتی حل کی اہمیت پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس مکالمے کے دوران کوئی انٹیلی جنس شیئر نہیں کی گئی۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں سہولت کاری میں امریکہ کی طرف سے ادا کیے گئے مثبت کردار کا خیرمقدم کرتا ہے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے ممالک کو ابراہم اکارڈ میں شامل کرنے کے سوال پر طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ ’ابراہم معاہدے پر پاکستان کا موقف برقرار ہے۔ ہمارا مطالبہ فلسطین کی ایک قابل عمل، متصل ریاست کا قیام ہے، جس کا دارالحکومت یروشلم ہو اور یہ 1967 سے پہلے کی طے شدہ سرحدوں کے اندر ہو۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ اس لیے اس معاملے پر ہمارا موقف ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام سے جڑا ہوا ہے۔

افغانستان میں طالبان حکومت اور روس کے مابین ’تکنیکی فوجی معاہدے‘ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ ’ہم نے یہ رپورٹس دیکھی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ معاہدہ 27 مئی کو ہوا تھا۔ ابھی تفصیلات معلوم کی جا رہی ہیں۔ اس مرحلے پر اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا۔‘