شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کو ”مین آف پیس“ قرار دے دیا
امریکہ کی 80 بڑی کمپنیاں پاکستان میں کام کر رہی ہیں, امریکا کی آزادی کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب
فائل فوٹو
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے صدرٹرمپ کو ”مین آف پیس “ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی بروقت مداخلت سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی، امریکہ کی 80 بڑی کمپنیاں پاکستان میں کام کر رہی ہیں۔
نجی ٹی وی کے مطابق امریکا کی آزادی کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امریکہ کی تاریخ امید اور روشن خیالی کی داستان ہے، انسداد دہشت گردی، تجارت، سرمایہ کاری کے شعبے میں بہترین تعلقات ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ، امریکی انتظامیہ اور عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد امریکہ ان ممالک میں تھا جنہوں نے پاکستان کو تسلیم کیا، امریکہ اور پاکستان کا تعلق 8 دہائیوں پر محیط ہے، پاکستان کی لیبر فورس امریکہ میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔
قبل ازیں امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کا کہنا تھا کہ تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت کا خیرمقدم کرتے ہیں، امریکہ اور پاکستان کے درمیان بہترین شراکت داری ہے، ہماری اسٹریٹجک شراکت داری ایک جذبے کے تحت ہے۔
امریکی ناظم الامور نے کہا کہ دو طرفہ حقیقی دوستی مشترکہ مفادات پر مبنی ہے، مضبوط پاکستان امریکہ کے مفاد میں اور مضبوط امریکہ پاکستان کے مفاد میں ہے، اسلام آباد نے امریکہ اور ایران کے مذاکرات کی میزبانی کی۔
نیٹلی بیکر کا کہنا تھا کہ ایران جنگ بندی پر صدر ٹرمپ نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو سراہا، رواں سال مجھے لاہور میں بسنت منانے کا موقع ملا، شراکت داری زراعت اور صنعت کے ذریعے لوگوں کی زندگیاں بہتر بنا رہی ہے۔