غیر ملکی انجینئرز کے دورے کے لیے وفاق این او سی نہیں دے رہا ، سہیل آفریدی
پنجاب کی جعلی حکومت نے بار بار خطوط کے گندم کی فراہمی بند کر دی ، تقریب سے خطاب
پشاور: ورلڈ فوڈ سیفٹی ڈے کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام میں محفوظ خوراک سے متعلق آگاہی کا فروغ وقت کی ضرورت ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے قیام سے صحت بخش خوراک کی فراہمی میں بہتری آئی ہے، جبکہ محکمہ خوراک کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ صوبہ گندم میں خود کفیل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ غذائی خود کفالت کے لیے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور آئندہ بجٹ میں محکمہ خوراک کا بجٹ بڑھا کر جدید گودام تعمیر کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ 2030 تک خیبرپختونخوا کئی شعبوں میں خود کفیل ہو جائے گا، جبکہ پنجاب کی جعلی حکومت نے بار بار خطوط کے گندم کی فراہمی بند کر دی ۔
ان کا کہنا تھا کہ جب 17 سیٹوں والوں کو اقتدار دیا جاتا ہے تو وہ عوام کے مفاد کا نہیں سوچتے، سی آر بی سی منصوبے کے لیے 3 ارب روپے مختص کیے گئے مگر وفاق نے کوئی فنڈ نہیں دیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ سی آر بی سی منصوبے میں وفاق 80 فیصد فنڈنگ کا پابند تھا مگر اب یہ 65 فیصد پر آگیا ہے، جبکہ ناردرن بائی پاس کے لیے صوبائی حکومت نے 4 ارب روپے کی بریج فنانسنگ کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پشاور بس ٹرمینل مکمل ہے مگر این ایچ اے راستے کے لیے این او سی جاری نہیں کر رہا، سوات ڈیم منصوبہ تیار ہے مگر غیر ملکی انجینئرز کے دورے کے لیے وفاق این او سی نہیں دے رہا۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبہ 500 ایم ایم سی ایف ڈی سے زائد گیس پیدا کرتا ہے مگر استعمال صرف 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے اور وفاق نے خیبرپختونخوا کی گیس بند کر رکھی ہے جس سے متوسط طبقہ متاثر ہو رہا ہے۔