منی لانڈرنگ کے خلاف نیب کی بڑی کامیابی، بحریہ ٹاؤن کے ماریشس میں 45 لاکھ ڈالر کے اکاؤنٹس منجمد

رقم کی ضبطی اور پاکستان واپسی کے لیے اقدامات اب اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں، نیب ذرائع

June 6, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی: قومی احتساب بیورو (نیب) نے منی لانڈرنگ کے خلاف ایک انتہائی اہم پیش رفت کرتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کے ماریشس میں موجود 45 لاکھ امریکی ڈالر (قریباً سوا ارب پاکستانی روپے سے زائد) مالیت کے 2 غیر ملکی بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے ہیں۔

نیب ذرائع کے مطابق یہ بڑی کارروائی احتساب عدالت کراچی کی باقاعدہ اجازت اور منظوری کے بعد اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔ نیب نے ماریشس کے ‘سلور بینک’ میں موجود ان اکاؤنٹس کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر ملزمان احمد علی ریاض اور مبشرہ علی ملک کے نام پر مشترکہ طور پر چلائے جا رہے تھے۔

نیب ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق بحریہ ٹاؤن نے مبینہ طور پر جرائم سے حاصل شدہ رقوم کو پاکستان سے باہر منتقل کرنے کے لیے غیر قانونی حوالہ اور ہنڈی نیٹ ورک کا سہارا لیا۔

 انکشاف ہوا ہے کہ یہ بھاری رقوم پہلے پاکستان سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) منتقل کی گئیں، اور بعد ازاں منی لانڈرنگ کے پیچیدہ طریقہ کار کے ذریعے ماریشس پہنچائی گئیں۔

ماریشس کے بینک میں موجود ان مشترکہ اکاؤنٹس میں اس وقت 45 لاکھ امریکی ڈالر موجود ہیں، جنہیں اثاثہ جات کی بازیابی کے جاری عمل کے تحت اب قانونی طور پر منجمد کر دیا گیا ہے۔

نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ منجمد کی گئی اس رقم کی ضبطی اور پاکستان واپسی کے لیے اقدامات اب اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس سلسلے میں نیب نے وزارتِ خارجہ کے تعاون سے ماریشس کی حکومت کے ساتھ باقاعدہ قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

نیب اعلامیہ کے مطابق یہ کارروائی نیب کے اس پختہ عزم کا مظہر ہے کہ غیر قانونی ذرائع اور کرپشن سے حاصل کیے گئے اثاثوں کا دنیا بھر میں پیچھا کیا جائے گا۔ بین الاقوامی تعاون اور اداروں کی مشترکہ کاوشوں کے ذریعے ملک کا لوٹا ہوا پیسہ ہر صورت واپس لایا جائے گا۔”

قومی احتساب بیورو کی اس کارروائی کو ملکی تاریخ میں بیرون ملک موجود کالے دھن کے خلاف ایک بڑی اور مؤثر ترین کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔