لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ،ازدواجی استحصال کیس میں شوہر کی ضمانت منظور
پاکستان پینل کوڈ میں ازدواجی استحصال کے نام سے کوئی واضح اور مخصوص جرم موجود نہیں ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے بیوی کے ازدواجی استحصال سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے ایک مقدمے میں گرفتار شوہر کی ضمانت منظور کر لی ہے۔
عدالت نے قرض کے بدلے بیوی کو دوسرے شخص کے پاس بھیجنے کے الزام میں گرفتار ملزم محمد اجمل کی بعد از گرفتاری ضمانت 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی۔
13 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں جسٹس محمد امجد رفیق نے قرار دیا کہ پاکستان پینل کوڈ میں ازدواجی استحصال کے نام سے کوئی واضح اور مخصوص جرم موجود نہیں ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق شوہر کی جانب سے بیوی کو غیر قانونی یا ناجائز تعلقات پر مجبور کرنے جیسے معاملات مختلف موجودہ قوانین کے تحت آ سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے واضح قانون سازی کی ضرورت ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ خواتین کے تحفظ کے لیے پارلیمنٹ کو ازدواجی استحصال سے متعلق خصوصی قانون متعارف کرانا چاہیے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ کیس میں طویل تاخیر، میڈیکل یا ویڈیو شواہد کی عدم دستیابی اور شریک ملزم کی ضمانت جیسے عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزم کو رعایت دی گئی ہے۔
یہ فیصلہ مستقبل میں ایسے مقدمات کے لیے عدالتی نظیر بھی قرار دیا گیا ہے۔