اسلام آباد میں آج قومی اقتصادی سروے پیش کیا جائے گا
توانائی اور پانی کے شعبے میں منفی رجحان رہا اور مجموعی طور پر 10 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اسلام آباد میں آج قومی اقتصادی سروے پیش کیا جائے گا، جس سے قبل ملک کی معاشی کارکردگی سے متعلق اہم اعداد و شمار سامنے آ گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق قومی اقتصادی سروے میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک کی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو پونے چار فیصد کے قریب رہی۔
رپورٹ کے مطابق صنعتی، تعمیراتی اور مینوفیکچرنگ شعبوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی، تاہم بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے شعبوں میں منفی رجحان رہا۔
اقتصادی دستاویزات کے مطابق مہنگائی کی رفتار میں کسی حد تک کمی دیکھی گئی، ترسیلات زر ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوا۔ تاہم برآمدات میں نمایاں بہتری نہ آ سکی اور ٹیکس وصولیوں میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کئی شعبے اپنے طے شدہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف 4.5 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 2.8 فیصد رہی۔
زرعی ذیلی شعبوں میں کاٹن جننگ کی کارکردگی انتہائی کمزور رہی جبکہ لائیو اسٹاک میں ترقی کی شرح ہدف سے کم رہی۔ دوسری جانب چنے کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تعمیراتی شعبے میں ترقی کا ہدف 3.8 فیصد تھا تاہم شرح نمو 5.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ اسی طرح رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
توانائی اور پانی کے شعبے میں منفی رجحان رہا اور مجموعی طور پر 10 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال 2026-27 کے ترقیاتی بجٹ میں بڑے منصوبوں کے لیے بھاری رقوم مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جن میں انفراسٹرکچر، مواصلات، توانائی، تعلیم، صحت اور آبی وسائل کے منصوبے شامل ہیں۔
حکام کے مطابق ترقیاتی بجٹ میں بنیادی ڈھانچے اور جاری منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی تاکہ معیشت کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔