پاکستانی خواتین کی فحش فلمیں پھیلانے والا بین الاقوامی گینگ گرفتار
بحریہ ٹائون راولپنڈی میں پولیس کا چھاپہ۔ غیرملکیوں اور مقامی افراد سمیت 10گرفتار،انتہائی مطلوب اشتہاری فرار
راولپنڈی : بحریہ ٹائون راولپنڈی میں فحش فلمیں بنانے والا بین الاقوامی گینگ پکڑاگیا، چائنیز اور نائیجیرین خاتون سمیت 10افرادگرفتار، انتہائی مطلوب اشتہاری ملزم فرار ہو گیا۔خواتین کو آن لائن نوکری کا جھانسہ دے کر بلایا جاتا نشہ آور اشیا دے کر نازیباوڈیو بنائی جاتی اور مختلف بین الاقوامی پورٹلز اور ویب سائٹس پر اپ لوڈ کر کے لاکھوں روپے کمائے جا رہے تھے۔
تفصیلات کے مطابق تھانہ روات کی حدود میں پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بحریہ ٹائون فیز 7 میں غیر قانونی طور پر چلنے والے فحش فلم میکنگ اور لائیو اسٹریمنگ کے بین الاقوامی اڈے کا پردہ فاش کر دیا۔ چھاپے کے دوران غیر اخلاقی ویڈیوز بنانے اور انہیں نیٹ پر فروخت کرنے کے الزام میں 3چینی باشندوں، ایک نائیجیرین خاتون اور 6پاکستانیوں سمیت 10ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔ ایک خطرناک اشتہاری مجرم موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق، ایس آئی محمد بلال کو مخبر خاص سے اطلاع ملی تھی کہ قتل اور اقدامِ قتل جیسے سنگین مقدمات میں مطلوب اشتہاری مجرم رضا ولد عتیق بحریہ ٹائون فیز 7کے مکان نمبر 58میں چھپا ہوا ہے۔ اطلاع ملتے ہی لیڈی پولیس اہلکاروں اور بھاری نفری پر مشتمل ریڈنگ پارٹی نے رات گئے مکان پر چھاپہ مارا۔چھاپے کے دوران اشتہاری مجرم رضا تو پولیس کی آمد کی بھنک لگتے ہی عقبی راستے سے فرار ہو گیا، تاہم پولیس نے جب مکان کے ڈرائنگ روم کا دروازہ کھولا تو وہاں کا منظر انتہائی شرمناک تھا۔
کمرے میں 7خواتین اور 3مرد برہنہ حالت میں موجود تھے اور موبائل کیمروں کے ذریعے فحش ویڈیوزکی لائیو اسٹریمنگ اور ریکارڈنگ جاری تھی۔ لیڈی پولیس نے خواتین کو لباس پہننے کا موقع دیا اور دیگر اہل کاروں نے بھاگنے کی کوشش کرنے والے تمام ملزمان کو محاصرے میں لے کر قابو کر لیا۔
گرفتار شدگان میں گینگ کا سرغنہ چینی باشندہ Li Guoliang، اس کا چائنیز ساتھی Li Shaohongنائیجیریا سے تعلق رکھنے والی خاتون Praise Morenikeدو پاکستانی مرد سعد علی اور بدر بن احمد اور 5پاکستانی دوشیزائیں شامل ہیں۔
پولیس نے ملزم لی گو لیانگ کے قبضے سے ایک غیر قانونی نائن ایم ایم پسٹل اور 5 گولیاں بھی برآمد کر لیں۔دورانِ تفتیش یہ سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں کہ یہ گینگ پاکستانی اور غیر ملکی لڑکیوں کو نوکریوں کا جھانسہ دے کر لاتا تھا اور بعد میں انہیں زبردستی بلیک میل کر کے فحش ویڈیوز بنانے اور لائیو اسٹریمنگ پر مجبور کرتا تھا۔ان ویڈیوز کو مختلف بین الاقوامی پورٹلز اور ویب سائٹس پر اپ لوڈ کر کے آن لائن لاکھوں روپے کمائے جا رہے تھے۔
پولیس نے موقع سے فحش مواد سے بھرے لیپ ٹاپس اور متعدد اسمارٹ فونز قبضے میں لے لیے ہیں۔ ملزمان کے خلاف پیکا ایکٹ 2016 (الیکٹرانک کرائمز)، تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 292، 294، 509، 216 اور پنجاب آرمز امینڈمنٹ آرڈیننس کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
فرار ہونے والے اشتہاری ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ترجمان راولپنڈی پولیس کے مطابق ،گینگ کے دیگر ارکان اور سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں،مقدمہ کی تفتیش کے حوالے سے ایف اے آئی سائبرکرائم ایجنسی سے رابطہ کر کے تفتیش کا دائرہ کار بڑھایا جا رہا ہے، خواتین اور بچوں کے استحصال یا زیادتی میں ملوث افراد قانون کی گرفت سے نہیں بچیں گے ۔