آزادکشمیر کابحران تیسرے ہفتے میں داخل۔اشیائے خوردونوش کی قلت

کرفیو اور مسلسل لاک ڈائون کے باعث خوراک اور ادویات کی سپلائی معطل

June 22, 2026 · اہم خبریں

 

آزاد کشمیر میں کشیدگی تیسرے ہفتے میں داخل ہوگئی ۔احتجاجی لہر کے باعث انسانی اور معاشی بحران انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔خبررساں ادارے صباح نیوزکے مطابق ،اب تک مجموعی طور پر 24 افراد مارے چکے ہیں، راولاکوٹ میں گزشتہ 14 دنوں سے نافذ کرفیو اور مواصلاتی رابطوں کی معطلی نے زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔

راولاکوٹ شہر اور اس کے گردونواح میں صورتحال سب سے زیادہ کشیدہ ہے۔ نیوزایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ شہر کے اندر سخت کرفیو نافذ ہے اور سیکیورٹی فورسز گشت کر رہی ہیں، شہر کے چاروں اطراف ہزاروں مظاہرین نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ آزاد کشمیر جانے والے راستے کھلے تاہم مواصلاتی رابطے، انٹرنیٹ اور موبائل سروسز گزشتہ دو ہفتوں سے مکمل طور پر بند ہیں، جس کے باعث نہ صرف مقامی لوگوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ کٹ چکا ہے بلکہ صحافیوں کو بھی معلومات کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔کرفیو اور مسلسل لاک ڈائون کے باعث خوراک اور ادویات کی سپلائی لائن مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے۔بازار، مارکیٹیں اور تجارتی مراکز بند ہونے کی وجہ سے راولاکوٹ سمیت کئی شہروں میں آٹا، گھی، چینی اور دیگر ضروری اشیا کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

ادھرکالعدم ایکشن کمیٹی نے حکومت کو مذاکرات کے لیے 23 جون تک کی حتمی مہلت دی ہوئی ہے ۔ کمیٹی کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا اور طاقت کا استعمال بند نہ کیا تو مہلت ختم ہوتے ہی اگلے مرحلے کے لیے ایک نئے اور سخت احتجاجی پروگرام کا اعلان کیا جائے گا۔