مولانا فضل الرحمان نے آزاد کشمیر تنازع کے حل کیلئے ثالثی کی پیشکش قبول کرلی
کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو دھرنا ختم کر کے مذاکرات کا مشورہ
جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے آزاد کشمیر میں جاری تنازعہ کے حل کیلئے ثالثی کی درخواست قبول کر لی۔
مولانا فضل الرحمان نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کو دھرنا ختم کرنے، مذاکرات کا راستہ اپنانے اور معاملے کے پرامن حل کے لیے بات چیت کی راہ ہموار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ محرم الحرام کے مبارک اور حساس موقع پر دونوں فریق صبرو تحمل کا مظاہرہ کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر پوری پاکستانی قوم اور کشمیری عوام شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات خطے میں اضطراب اور بے چینی کا باعث بن رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کے مطابق (کالعدم) جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں سردار عمر نذیر، خواجہ مہران ایڈووکیٹ اور شوکت نواز میر نے انہیں خط کے ذریعے بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے، جسے انہوں نے قومی مفاد میں قبول کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دھرنے میں شریک مظاہرین اگلے لائحہ عمل کی طرف بڑھ رہے ہیں تاہم مؤثر ثالثی کے لیے انہیں کچھ وقت درکار ہے تاکہ حکومت سے رابطہ کر کے باضابطہ مذاکرات شروع کیے جا سکیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ چونکہ محرم الحرام کا پہلا عشرہ جاری ہے جو انتہائی مقدس اور حساس موقع ہے، اس لیے ضروری ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پہلے مرحلے میں اپنا دھرنا فوری طور پر ختم کرے اور مزید ایسے اقدامات سے گریز کرے جن سے صورتحال بگڑ سکتی ہو۔
انہوں نے کہا کہ دھرنے کے خاتمے سے حکومت اور کمیٹی قیادت کو ایک متفقہ مؤقف پر لانے اور پرامن حل کی طرف پیش رفت کا موقع ملے گا۔
مولانا فضل الرحمان نے حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی دونوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے رویوں میں نرمی لائیں اور مذاکرات کے ذریعے بحران کے حل کے لیے آمادگی ظاہر کریں۔
انہوں نے کہا کہ وہ مثبت امید کے ساتھ یہ پیغام دونوں فریقین تک پہنچا رہے ہیں تاکہ آئندہ کے اقدامات کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔