رخصتی نہ ہونے پر بھی خاتون حق مہر کی حقدار قرار

نکاح نامے میں درج جائیداد، سونا یا دیگر اثاثے اس وقت فوری ادائیگی والے مہر شمار ہوں گے جب ان کی ادائیگی مؤخر کرنے کی کوئی واضح شرط موجود نہ ہو۔

June 24, 2026 · قومی

لاہور ہائی کورٹ نے خلع اور حق مہر سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ رخصتی نہ ہونے یا میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلق قائم نہ ہونے کی صورت میں بھی خاتون حق مہر کی حقدار رہے گی۔عدالت نے واضح کیا کہ نکاح کے بعد حق مہر کا حق برقرار رہتا ہے اور اسے صرف رخصتی یا ازدواجی تعلق سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔ فیصلے میں حق مہر کی ادائیگی اور خلع کی صورت میں اس کی واپسی سے متعلق قانونی اصولوں کو بھی مزید واضح کیا گیا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ رخصتی نہ ہونے یا میاں بیوی کے ساتھ نہ رہنے کی صورت میں بھی خاتون حق مہر کی حقدار رہتی ہے اور ازدواجی تعلق قائم نہ ہونے سے مہر کا حق ختم نہیں ہوتا۔

جسٹس مرزا وقاص رؤف نے ایک درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر نکاح نامے میں مہر کی ادائیگی کا وقت واضح طور پر درج نہ ہو تو پورا حق مہر فوری واجب الادا تصور ہوگا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ نکاح نامے میں درج جائیداد، سونا یا دیگر اثاثے اس وقت فوری ادائیگی والے مہر شمار ہوں گے جب ان کی ادائیگی مؤخر کرنے کی کوئی واضح شرط موجود نہ ہو۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ خلع کی بنیاد پر شادی کے خاتمے کی صورت میں خاتون مہر کے 25 فیصد حصے کی واپسی کی پابند ہوگی، جبکہ باقی قانونی تقاضے متعلقہ حقائق اور حالات کے مطابق طے کیے جائیں گے۔

لاہور ہائی کورٹ نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں موجود قانونی خامیوں کی نشاندہی کی اور حق مہر سے متعلق اصولوں کو مزید واضح کر دیا۔