قومی اسمبلی اجلاس میں سپیکر اور اپوزیشن لیڈر آمنے سامنے

سپیکر ایاز صادق کے ریمارکس پر ایوان میں تلخ جملوں کا تبادلہ

June 24, 2026 · قومی

فائل فوٹو

اسلام آباد میں قومی اسمبلی اجلاس کے دوران سپیکر اور اپوزیشن لیڈر آمنے سامنے آ گئے، جہاں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپوزیشن لیڈر کے ریمارکس پر جوابی ردعمل دیا۔

سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ انہوں نے 98 میں پی ٹی آئی چھوڑی تھی اور 2001 میں ن لیگ جوائن کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اقتدار کی پارٹی نہیں بلکہ اس جماعت کو جوائن کیا جو مشکل میں تھی۔

سپیکر نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ان پر بات کرتے ہوئے انہیں “حوالدار” کہا گیا، وہ دو حوالداروں کو جانتے ہیں، ایک بارڈر پر اور دوسرا چوروں، ڈاکوؤں اور منشیات فروشوں کو پکڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھی ایک انسان ہیں اور ایوان میں ایک حد مقرر ہونی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ عہدہ یا ایم این اے شپ تاحیات نہیں اور انہیں معلوم نہیں وہ کب تک سپیکر رہیں گے۔ ان کے مطابق وہ کسی کی دل آزاری نہیں کرنا چاہتے۔

سپیکر نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپوزیشن کو ان کا وقت دیا اور 67 اپوزیشن ارکان نے خطاب کیا۔ ان کے مطابق اپوزیشن ارکان پر “سردرد کی گولی والا اثر” ہوتا ہے جو تین سے چار گھنٹے بعد اتر جاتا ہے، جس کے بعد وہ باہر جا کر کہتے ہیں کہ سپیکر بولنے نہیں دیتا۔